امریکا کا غزہ کا عبوری انتظامی ادارہ تشکیل دینے کا منصوبہ، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئرکا نام تجویز، دی گارڈین
ویب ڈیسک : امریکا ایک ایسے منصوبے کی حمایت کر رہا ہے جس کے تحت سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر غزہ کی پٹی کی ایک عارضی انتظامیہ کی سربراہی کریں گے اور اس عارضی انتظامیہ میں فلسطینی اتھارٹی ( پی اے ) کی براہ راست کوئی شمولیت نہیں ہوگی۔برطانوی روزنامے دی گارڈین نے اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس تجویز کے تحت ٹونی بلیئر ایک ادارے کی قیادت کریں گے جسے ’ غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی‘ (جیٹا) کہا جائے گا اور جسے پانچ سال تک غزہ کی ’ اعلیٰ سیاسی اور قانونی اتھارٹی‘ کا اختیار حاصل ہوگا۔ہاریٹز اور ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یہ منصوبہ ا±ن انتظامی ماڈلز پر مبنی ہے جو ابتدائی طور پر تیمور لیستے اور کوسوو کی ریاست بننے کی راہ ہموار کرنے کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ تجویز کے مطابق جیٹا کو ابتدا میں مصر کے صوبائی دارالحکومت العریش میں قائم کیا جائے گا اور بعد میں یہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ، زیادہ تر عرب کثیر القومی فورس کے ساتھ غزہ میں داخل ہوگا۔ منصوبہ یہ بھی تصور کرتا ہے کہ ’ بالآخر تمام فلسطینی علاقوں کو پی اے کے تحت متحد کیا جائے گا‘۔منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو علاقے چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ ماضی کے امریکی منصوبوں کے تحت خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔اگر یہ منصوبہ منظور ہوا تو ٹونی بلیئر 25 افراد تک کے ایک سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے اور سات افراد پر مشتمل ایک بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جو علاقے کی ایگزیکٹو باڈی کی نگرانی کرے گا۔
تاہم سابق برطانوی وزیرِاعظم کا کوئی بھی کردار شدید تنازع کو جنم دے گا۔ وہ 2007 میں وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد 2015 تک مشرق وسطیٰ کے ایلچی رہے اور کئی خلیجی رہنماو¿ں کے نزدیک ا±ن کی بلند ساکھ ہے۔ لیکن کئی فلسطینی اور خطے کے لوگ ا±نہیں 2003 میں عراق پر امریکی حملے کی حمایت کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والا سمجھتے ہیں۔کچھ مغربی سفارتکاروں نے کہا کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ ٹونی بلیئر عبوری فلسطینی انتظامیہ کی سربراہی کریں گے، اور اس کا دورانیہ دو سال بھی ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ جنگ بندی اور مکمل یرغمالیوں کے تبادلے سے بھی جڑا ہے۔یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک مختلف منصوبے کی حمایت کی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک ٹیکنوکریٹک انتظامیہ ایک سال کے لیے غزہ کا انتظام سنبھالے اور پھر ’ اصلاح شدہ ’ فلسطینی اتھارٹی کو اقتدار منتقل کر دے۔وائٹ ہاو¿س کے منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں منتقلی کا واضح ٹائم لائن نہ ہونا فلسطینیوں اور عرب رہنماو¿ں کے لیے رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم یہی ابہام اور ٹونی بلیئر کی موجودگی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے اطمینان بخش سمجھی جا رہی ہے۔امریکی حکام اس نئے منصوبے کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز اور اقوام متحدہ کے نیویارک ڈیکلریشن کے درمیان سمجھوتے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کی حمایت 140 سے زیادہ ریاستوں نے کی تھی۔ٹرمپ کی ماضی کی تجاویز کے مطابق امریکا اور اسرائیل غزہ پر قابو پا سکتے تھے جس سے وہاں کے 20 لاکھ باشندوں کا صفایا ہوسکتا تھا۔ نئے منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو علاقے چھوڑنے کی ترغیب نہیں دی جائے گی۔


