ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ہمراہ مجوزہ غزہ جنگ بندی منصوبے کا اعلان کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن معاہدہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے امن منصوبے کو تمام عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے، وہ ’ بہت پُراعتماد’ ہیں کہ وہ وائٹ ہاؤس کے دورے پر آئے ہوئے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے کر لیں گے۔

وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک ’ بہت بڑا ’ دن ہے، ہم غزہ امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے امن کے عمل میں نیتن یاہو کے کردار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم نے مل کر اچھا کام کیا ہے، اور کئی دیگر ممالک کے ساتھ بھی، اور یہی اس صورتحال کو حل کرنے کا طریقہ ہے۔’

ٹرمپ نے کہا کہ ان کا ہدف صرف غزہ پٹی ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اور نیتن یاہو نے ایران، ابراہم معاہدوں اور غزہ تنازع کے خاتمے جیسے مسائل پر بات کی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ’ یہ بڑے منظر نامے کا حصہ ہے، جو کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن ہے … آئیے اسے ‘ابدی’ امن کہتے ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ ’ علاقے میں ہمارے دوستوں اور شراکت داروں سے وسیع مشاورت کے بعد، میں باضابطہ طور پر امن کے لیے اپنے اصول جاری کر رہا ہوں اور لوگوں نے واقعی انہیں پسند کیا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ میں عرب اور مسلم ممالک کے کئی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس تجویز کی تیاری میں شاندار حمایت فراہم کی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’ وزیرِ اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل ( سید عاصم منر) شروع سے ہمارے ساتھ تھے۔ درحقیقت انہوں نے ابھی ایک بیان جاری کیا ہے کہ وہ اس معاہدے پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور وہ اس کی سو فیصد حمایت کرتے ہیں۔’

امریکی صدر نے نیتن یاہو کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے منصوبے سے اتفاق کیا اور ’ یہ اعتماد کیا کہ اگر ہم مل کر کام کریں تو ہم علاقے میں موت اور تباہی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔’

ٹرمپ نے کہا کہ’ اگر حماس نے اسے قبول کر لیا تو اس تجویز میں تمام باقی ماندہ یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن کسی صورت بھی 72 گھنٹوں سے زیادہ ( وقت نہیں لگنا چاہیے۔’

انہوں نے کہا کہ ’ اس منصوبے کے تحت، عرب اور مسلم ممالک نے غزہ کو تیزی سے غیر مسلح کرنے، حماس اور دیگر تمام دہشت گرد تنظیموں کی فوجی صلاحیت ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور ہم ان ممالک پر بھروسہ کر رہے ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ وہ حماس سے نمٹیں گے اور مجھے سننے میں آیا ہے کہ حماس بھی یہ کرنا چاہتی ہے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر ’ دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ’ بشمول سرنگیں اور اسلحہ بنانے کی تنصیبات ختم کر دی جائیں گی اور غزہ پٹی میں مقامی پولیس فورس کو تربیت دی جائے گی۔

ٹرمپ نے کہا کہ’ غزہ میں نئی عبوری اتھارٹی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، تمام فریق اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک ٹائم لائن پر متفق ہوں گے … امید ہے کہ مزید فائرنگ نہیں ہو گی۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں