فنڈز کی موجودگی کے باوجود جامعہ مکران پنجگور کے اساتذہ اور ملازمین گزشتہ ایک ماہ کی تنخواہ سے محروم
پنجگور: فنڈز کی موجودگی کے باوجود جامعہ مکران پنجگور کے اساتذہ اور ملازمین کو گزشتہ ایک ماہ کی تنخواہ نہیں ملی، جس کی وجہ سے وہ شدید پریشانی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ وہ لوگ جو دن رات نوجوان نسل کو تعلیم دینے کے لیے محنت کرتے ہیں، آج اپنے گھروں کے اخراجات پورے کرنے اور بچوں کے لیے ضروریات مہیا کرنے سے قاصر ہیں۔افسوسناک امر یہ ہے کہ جامعہ کے وائس چانسلر بھی گزشتہ ایک ماہ سے یونیورسٹی میں موجود نہیں، جس کی وجہ سے ادارہ انتظامی خلا اور بدانتظامی کا شکار ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ صرف غفلت نہیں بلکہ ذمہ داری سے روگردانی ہے۔“ہم پوری لگن سے پڑھاتے ہیں لیکن جب مہینے کا اختتام آتا ہے تو ہمارے ہاتھ خالی ہوتے ہیں۔ ایک استاد ایک ماہ کی تنخواہ کے بغیر کیسے گزارہ کرے؟ ایک خاندان کب تک روٹی کے انتظار میں رہے؟” ایک بزرگ استاد نے آنکھوں میں نمی لیے کہا۔اساتذہ اور عملے نے اعلیٰ حکام اور صوبائی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق یہ بدانتظامی نہ صرف ملازمین کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ طلبہ کے مستقبل پر بھی خطرہ بن کر منڈلا رہی ہے۔ان کی فریاد واضح ہے: جامعہ مکران صرف ایک عمارت نہیں بلکہ پورے خطے کی امید ہے۔ اس کے محافظوں کو نظرانداز کرنا بلوچستان کے مستقبل کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔


