اسمبلی کے کٹھ پتلی نمائندے عوام کے اعتماد کے قاتل ہیں، جمعیت کے کارکن کبھی بکے نہیں، نہ بکیں گے، مولانا اسعد محمود
قلعہ سیف (این این آئی ) فرزندِ قائدِ جمعیت مولانا مفتی اسعد محمود نے کہا ہے کہ ہمارے مینڈیٹ پر شب خون مار کر ہمیں مرعوب کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں شاید وہ ہماری تاریخ سے ناآشنا ہیں، اسمبلی کے کٹھ پتلی نمائندے عوام کے اعتماد کے قاتل ہیں، مگر جمعیت کے کارکن کبھی بکے نہیں، نہ بکیں گے۔ ہم وہ وارث ہیں جن کے آباو¿ اجداد نے مالٹا کی اسیری، شیخ الہند کی قید، اور مولانا مدنی کی جرات و استقامت سے تاریخ رقم کی ایسے قافلے سے مفاہمت کی امید رکھنا خام خیالی ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو قلعہ سیف اللہ میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ جنہیں فرنگی خطابات سے نوازا گیا تھا، وہ آج بھی اپنے آقاو¿ں کے تابع ہیں، مگر جمعیت علم و شعور، اصول و استقلال کی وہ دیوار ہے جسے کوئی طوفان نہیں گرا سکتا۔ یہ جماعت اقتدار کے لالچ سے آزاد اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کچھ لوگوں نے وقتی مفاد کے لیے جماعت کے لبادے میں رہ کر اس کے ستون کمزور کرنے کی کوشش کی، مگر قلعہ سیف اللہ کے علمائے کرام، طلباء اور غیرت مند عوام نے عوامی اسمبلی منعقد کر کے زر خرید غلاموں کی سیاست کو مسترد کر دیا۔ یہ وہ جماعت ہے جو نظریات کی سیاست کرتی ہے، اقتدار کے لیے جھکنے والی نہیں۔ مفتی اسعد محمود نے کہا کہ مفکرِ اسلام مفتی محمود نے وزارتِ اعلیٰ اور دیگر مناصب کو ہمیشہ اصولوں کے تابع رکھا، اور آج بھی ہم انہی اصولوں پر قائم ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جے یو آئی کے مقابل کن امیدواروں نے کس کس سے کتنے روپے وصول کیے، مگر قوم بھی دیکھ رہی ہے کہ عوامی اعتماد کو بیچنے والے تاریخ میں کس نام سے یاد کیے جائیں گے۔ یہ اسمبلی کے کٹھ پتلی نمائندے عوام کے اعتماد کے قاتل ہیں، مگر جمعیت کے کارکن کبھی بکے نہیں، نہ بکیں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماءاسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمود نے ہر دور میں بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بلوچستان کی جمہوری حکومت کو غیر آئینی طور پر برطرف کیا گیا تو مفتی محمود نے بطور وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد احتجاجاً استعفیٰ دیا اور ذوالفقار علی بھٹو کے مسلسل اصرار کے باوجود دوبارہ منصب قبول نہیں کیا۔ یہ کردار اصولوں کی سیاست کا استعارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج وہی تاریخ دہرا دی گئی ہے، جے یو آئی بلوچستان کے مینڈیٹ پر شب خون مارنے والوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے۔ قلعہ سیف اللہ کے علم و شعور کی وادی نے اپنے اکابرین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایک بار پھر ثابت کیا کہ یہ جماعت اقتدار کی غلام نہیں بلکہ ایمان و وفا کی علمبردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قلعہ جمعیت کا قلعہ ہے، اور جب تک یہاں کے عوام کے دلوں میں غیرت، وفاداری اور نظریاتی محبت کی شمع روشن ہے، کوئی سازش اس قلعے کی بنیادوں کو متزلزل نہیں کر سکتی۔اس موقع پر مولانا صلاح الدین ایوبی نے اپنے پ±رجوش خطاب میں کہا کہ آج قلعہ سیف اللہ کا اجتماع حکومت کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر گیا ہے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ صوبائی حکومت تمام تر وسائل، حکومتی مشینری اور حلیف جماعتوں کو یکجا کر کے کوئٹہ میں جلسہ کرے، پھر دیکھیں عوامی طاقت کا پیمانہ کس طرف جھکتا ہے۔ جے یو آئی کوئی موسمی جماعت نہیں بلکہ ایک صدی پر محیط نظریاتی قافلہ ہے، جس نے فارم سینتالیس سے پہلے بھی تاریخ لکھی تھی اور آج بھی مزاحمت کا استعارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جماعت قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹی، کیونکہ جمعیت کے کارکن اصولوں کے سوداگر نہیں بلکہ ایمان کے محافظ ہیں۔ مولانا ایوبی نے کہا کہ ہم نے خون سے وفا لکھی ہے، جبکہ مخالفین نے کرسیوں سے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام ملک سکندر ایڈووکیٹ، نے کہا کہ آج قلعہ سیف اللہ نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ یہ اجتماع اس بات کا اعلان ہے کہ جے یو آئی کو مٹانے والے خود مٹ جائیں گے مگر جمعیت کے چراغ کبھی بجھ نہیں سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت کا قافلہ کسی فرد یا اقتدار کا مرہونِ منت نہیں بلکہ یہ ایک نظریہ، ایک سوچ اور ایک پیغام ہے جس کی جڑیں عوام کے دلوں میں پیوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے نام نہاد نمائندے سمجھ لیں کہ جمعیت صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جس نے دین، دستور اور جمہور کی حفاظت کو اپنا مشن بنایا ہے۔ ملک سیکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ قلعہ سیف اللہ نہیں بلکہ ایمان کا قلعہ ہے، یہاں کی مٹی وفاداری، قربانی اور استقامت کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔ انہوں نے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی سازشوں کے اندھیروں میں اگر کوئی روشنی باقی ہے تو وہ جمعیت کے نظریے کی روشنی ہے، اور یہی چراغ اس ملک کے مستقبل کو منور کرے گا۔کانفرنس میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، مولانا حافظ محمد یوسف، حافظ حسین احمد شرودی سمیت مرکزی و صوبائی قیادت نے شرکت و خطاب کیا۔ اجتماع میں عوامی طاقت کا بےمثال مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ درایں اثناء فرزندِ قائدِ جمعیت مفتی اسعد محمود سخت سیکورٹی حصار میں صوبائی قیادت کے ہمراہ قلعہ سیف اللہ روانہ ہوئے۔ راستے میں کچلاک، بوستان، خانی بابا، زیارت کراس، خانوزئی، بلوزئی، کان مہترزئی، مسلم باغ اور نسائی میں عوام نے والہانہ استقبال کیا۔ ہر مقام پر جمِ غفیر نے پھول نچھاور کیے، فضا فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی، قلعہ سیف اللہ کے اطراف عوام کا سمندر امڈ آیا۔ پنڈال عوام سے لبریز تھا، تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ عوام کے جوش و جذبے نے سماں باندھ دیا، قیادت کے پہنچنے پر فضائ فلک بوس نعروں سے گونج اٹھی۔ جلسہ میں عوام کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ سیکورٹی کے پیش نظر اجتماع کو دھوپ ڈھلنے سے قبل اختتام پذیر کیا گیا۔ مرکزی و صوبائی قیادت کے پ±رجوش خطابات نے سیاسی فضاءکو گرما دیا، حکومت پر سخت تنقید اور عوامی مسائل پر دوٹوک مو¿قف پیش کیا۔ عوام کے نعروں سے میدان گونج اٹھا، اور جلسہ دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ قلعہ سیف اللہ نے ایک بار پھر عوامی تاریخ کا نیا باب رقم کر دیا۔


