بیسیمہ میں زلزلہ، پی ڈی ایم اے کی کسی ٹیم نے علاقے کا دورہ نہیں کیا، ثناء بلوچ

بسیمہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ایم پی اے خاران ثنااللہ بلوچ نے آج بیسیمہ کے زلزلہ سے شدید متاثر ہونے والے علاقہ ساجد کا تفصیلی دورہ کیا دورے کے موقع پر بی این پی واشک کے ضلعی صدر انجینئر سیف الرحمن عیسی زئی، سابق ضلعی صدر میر بالاچ خان رودینی، ڈاکٹر محمد صادق عیسی زئی، ضلعی ڈپٹی سیکریٹری عبدالخالق بلوچ، ضلعی کسان ومائیگری سیکریٹری محمد ایوب بلوچ، ضلعی پروفیشنل سیکریٹری ایڈوکیٹ میر عبدالطیف عیسی زئی‘ ضلعی فنانس سیکریٹری، حافظ برکت اللہ عیسی زئی، تحصیل بسیمہ کے صدر محمد حسن بلوچ، جنرل سیکرٹری عبدالرحمن سمالانی‘ محمد اسلم عیسی زئی‘ عبدالباسط سمالانی، محمد اسماعیل میروانی، عبدالرحمن میروانی، عبدالقیوم بلوچ‘ خاران کے قبائلی رہنما سردار فضل سمالانی، ضلعی نائب صدر حاجی نصرت اللہ مینگل، جوائنٹ سیکرٹری میر شبیر بادینی، تحصیل خاران کے صدر حاجی اصغر ملنگ زئی، جنرل سیکرٹری چیئرمین غلام دستگیر مینگل‘ سینئر نائب صدر میر محمد حسن قمبرانی، سینئر رہنماء میر سرفراز تگاپی، امانت حسرت بلوچ و دیگر ان کے ہمراہ تھے انہوں زلزلے سے متاثرہ علاقہ ساجد کے دورے کے موقع پر متاثرہ اور منہدم ہونے والے مکانات کا معائنہ لیا اور متاثرین سے ملاقات کی اس موقع پر انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے زلزلہ کو اتنے دن گزرنے کے باوجود پی ڈی ایم اے کی طرف سے کوئی ٹیم اس علاقے کے دورے تک نہیں پہنچا ہے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے یہاں پر باقاعدہ ایک فوکل پرسن بھیٹنا چاہئے تاکہ لوگوں کو بروقت ریلیف پہنچ جائے اور انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ بیسیمہ بالخصوص ساجد کے نام سے کم از کم پچاس سے ساٹھ کروڑ روپے کی ایک ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ بنائی جائے تاکہ لوگوں کے گھروں کو جذوی ہوا ہے جو رہائش کے قابل نہیں ہے یا مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں جنتنے گھروں میں دارڈیں پڑ گئے ہیں ان سب گھروں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے زیک سے ساجد تک روڈ نہ ہونے کے برابر ہے روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ساجد روڈ کو تعمیر کیا جائے ہونے انتے بڑے آبادی کیلئے کم سے کم ایک بی ایچ یو کا قیام ضروری ہے اسکول اور مساجد کی دوبارہ تعمیرات ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ متاثرین کے گھر منہدم ہونے کی وجہ سے وہ پریشانی کے عالم میں ہیں جب تک ان کے گھروں کی تعمیر نہیں ہوسکتی حکومت کو چاہئے کہ انہیں کم از کم ایک سال تک راشن کی فراہمی کو بھی یقینی بنائیں بیسیمہ پہنچے پر پارٹی راہنماؤں نے مرکزی رہنما کا کرہ گی کے مقام پر ان کا استقبال کیا گیا اور کلی صادق آباد سیاہوزئی میں ٹی پارٹی جبکہ میر بالاچ خان رودینی کے گھر میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں