خضدار میں 36واں دو روزہ براہوئی ادبی سیمینار (بیاد جیدم نا مسافر) علامہ مرحوم عبدالقیوم جوہر کا انعقاد
خضدار (بیورو رپورٹ) 36 واں دو روزہ براہوئی ادبی سیمینار(جیدم نامسافر) حضرت علامہ عبدالقیوم جوہر براہوئی بیاد خضدار پریس کلب ہال میں منعقد ہوئی۔ سیمینارمیں سندھ اور بلوچستان کے دوردراز علاقوں سے معروف ادیب شاعر اوردانشوروں نے کثیر تعداد میں شرکت۔ دو روزہ براہوئی ادبی سیمینار بعنوان جیدم نامسافر علامہ جوہر براہوئی دو روزہ کامیاب سیمیناربڑی شان وشوکت سے اختتام پذیر ہوئی۔ براہوئی ادبی سیمینارکے افتتاح براہوئی اکیڈمی پاکستان کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر پروفیسرعبدالقیوم سوسن براہوئی نے کی۔ براہوئی ادبی سیمینار کے میزبان جھالاوان کے معروف محقق ادیب وشاعر دانشور محمد عالم براہوئی نے تمام مہمانوں کو سیمینار میں آنے پرخوش آمدید کیا۔ پہلا روزہ سیشن میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض محمد وارث شاہین براہوئی نے سرانجام دیئے۔ 36 براہوئی ادبی سیمینار سے براہوئی اکیڈمی کے مرکزی چیئرمین پروفیسر عبدالقیوم سوسن براہوئی، جانشین جوہر عبدالحمید ندیم جوہربراہوئی، آزاد انور کاندھڑو، مولانا عبدالقادر محمد حسنی،محمد عالم براہوئی، مفتی عبدالقادر شاہوانی،صابرحسین قلندرانی ودیگرنے خطاب کیا۔ سیمینارکے افتتاحی خطاب میں پروفیسر عبدالقیوم سوسن براہوئی و دیگر نے کہا ہے کہ براہوئی ادیب و شاعراور دانشوروں کی قدآور شخصیات کو یہاں سیمینار میں دیکھ کربہت خوشی ہوئی ہے کہ یہ سیمینار میری اور دوستوں کی توقع سے زیادہ کامیاب ہوگیا ہے۔ سیمینار میں کثیر تعداد میں مقالہ نگاروں، ادیب وشاعر، عالموں کی شرکت براہوئی شعبہ کے مقبولیت کی واضح دلیل ہے۔ پروفیسر سوسن براہوئی نے خضدار میں براہوئی ادب کے منتظمین کو مبارکباد دی کہ سیمینار ہماری توقع سے زیادہ کامیاب ہوا، اس دو روزہ براہوئی ادبی سیمینار میں تقریباً سینکڑوں ادیب، شاعر، مصنف و مقالہ نگاوں نے شرکت کی۔ انہوں نے افتتاحی اجلاس میں مہمانوں اور مجلس مشاورت کے ارکان کو تہنیت پیش کی۔ سیمینار میں مرحوم علامہ جوہر براہوئی کے زندگی میں لکھنے والی کتاب کی رہنمائی اور براہوئی زبان میں انہیں (مون پوشی) کہا جاتا ہے تقریب رہنمائی کی اور یادگاری شیلڈ پیش کی۔ براہوئی ادب کے رابطہ کار جھالاوان کے ادیب، دانشور محمد عالم براہوئی نے 36 واں براہوئی ادبی سیمینار کے اغراض و مقاصد پیش کیے۔ سیمینار کی پہلی نشست ڈاکٹر عبدالقیوم سوسن براہوئی کی صدارت میں منعقد ہوئی، سیمینار میں شاعرو ادیب دانشوروں نے اپنے مقالہ پیش کیے۔ نظامت کے فرائض شاہین براہوئی نے سرانجام دیئے۔ چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم سوسن براہوئی محترم ومکرم کا صدارتی خطاب رہا۔ دوسری نشست کی صدارت محمد عالم براہوئی نے کی۔ اس نشست میں مختلف براہوئی ادیباں مہر براہوئی، محبوب زاد، پروفیسر نذیر احمد، امان صابر، الفت براہوئی، ناصر براہوئی ودیگر معروف ادیبوں، شاعروں نے مقالہ پیش کیا۔ اس نشست میں نظامت کے فرائض جان محمد الفت براہوئی نے سرانجام دیے۔ اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر سوسن براہوئی نے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے براہوئی ادب کے روح رواں پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم سوسن براہوئی نے شرکت کی۔ اعزازی مہمانوں میں جانشین علامہ جوہر عبدالحمید ندیم جوہر براہوئی، آزاد انور کاندھڑو، مولانا فیض محمد سمانی، مفتی عبدالقادر شاہوانی ودیگر عالم دین ادیب وشاعروں نے خطاب کیا۔ اختتامی نشست میں سامعین اور مقالہ نگاروں نے اپنے تاثرات پیش کیے۔ پروفیسر عبدالقیوم سوسن براہوئی نے مقالہ نگاروں کے مقالہ کو سراہا اور انہیں تشکر پیش کیا، مقالہ نگاروں میں اسناد تقسیم کیں۔ 36ویں براہوئی ادبی سیمینار سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادیب، شاعر، دانشور معاشرے کا دل ودماغ ہوتے ہیں، تاریخ بتاتی ہے کہ شاعروں، ادیبوں نے قوموں کی زندگی بدل ڈالی ہے۔ مقررین نے کہا کہ ادبا شعرا قوم کا مغز ہیں، ادب کی زبان، اصلاحات، استعارے کی علامت ہوتی ہے۔ مقررین نے کہا کہ ادب کا چشمہ انسان کے ذہن وشعور عقل وآگہی احساسات وجذبات سے جو پھوٹا تھا وہ آج رواں ہے، ادیب حقائق پرست بلکہ انسانی احساسات وجذبات کی خوبصورتی کی ترجمانی کرتے ہیں، بہترین ادیب اپنے کردار کی تخیل کو اصل حالت میں پیش کرتے ہیں۔ موت ایک حقیقت ہے اس سے ذی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا، کل نفس ذائقتہ الموت ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہوگا۔ مرحوم علامہ عبدالقیوم جوہر ایک عہد ساز شخصیت ایک جید عالم ادیب ودنشور مشہورمصنف بھی تھے مرحوم کی دینی وعلمی خدمات رہتی دنیا تک یاد رہے گی۔ مقررین نے کہا مرحوم حضرت علامہ عبدالقیوم جوہر براہوئی کو موت اپنے آغوش میں لینے کے باوجود انکا نام رہتی دنیا تک بلکہ زمین وآسمان میں علم وادب علم شعور پرایک درخشاں اور روشن ستارے کی مانند رہے گی۔ مقررین نے کہاسندھ کے چھوٹا قصبہ فرید آباد میں مرحوم علامہ عبدالقیوم جوہربراہوئی کی علمی ادبی اور قومی خدمات تاریخ کے اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے اوربراہوئی ادب کیلئے بہت سے سیاسی سماجی ادبی شخصیات کی عمدہ فکرنے براہوئی قوم کی نام کو روشن کردیا ان میں ایک نام مرحوم علامہ عبدالقیوم جوہربراہوئی کی ہے وہ چند ماہ پہلے اس دنیا فانی سے رخصت ہوکر ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے۔36 واں براہوئی ادبی سیمینار میں سندھ اور بلوچستان کے نامور ادیب شاعر اور مفکرین نے کثیرتعداد میں شرکت کرکے جیدم نا مسافر مرحوم حضرت علامہ عبدالقیوم جوہر براہوئی حالات زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے مرحوم کو بھرپور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔ سیمینار میں مہمانان گرامی حضرت مولانا فیض محمد سمانی، ڈاکٹر پروفیسر سوسن براہوئی، چیئرمین براہوئی اکیڈمی پاکستان حضرت جوہر براہوئی کے جانشین عبد الحمید ندیم جوہر براہوئی، آزاد انور کاندھڑو، مفتی عبدالقادر شاہوانی، مہر زاہد نالوی براہوئی، پروفیسر انور براہوئی، شاہین براہوئی، سلطان احمد شاہوانی، علی گل پندرانی، عبد الرزاق شاہوانی، صحافی امان صابر براہوئی، مفتی محمود، رحیم ناز، اللہ بخش لہڑی، حافظ ایاز فاروقی، ڈاکٹر قدوس شاکر، منصور براہوئی، الفت حسنی، محبوب زاد زہری، منظور جا، مولانا عبد القادر محمد حسنی، شیر احمد قمبرانی، پروفیسر نذیر احمد موسیانی، استاد میر احمد عابد، غلام نبی براہوئی، استاد میرل براہوئی، مولوی عبد الخالق براہوئی، ذوالفقار براہوئی ودیگرنے مرحوم حضرت علامہ عبدالقیوم جوہر براہوئی کے علمی وادبی دینی خدمات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ مرحوم علامہ عبدالقیوم جوہر براہوئی جیسے شاعر مصنف دانشور ادیب عالم انگلیوں میں گنے جاسکتے ہیں، مرحوم کے کردار اور براہوئی قومی ادب کیلئے انکی خدمات ناقابل بیان ہے، مرحوم کی ادبی علمی اور تحریری خدمات کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھتے ہیں، جوہر براہوئی کی کمی تادیر محسوس کی جائے گی۔ ایسے مصنف دانشور ادیب عالم صدیوں میں پیدا نہیں ہوتے، دعا ہے اللہ پاک مرحوم کی قبرمبارک کو روشن کرے اور انہیں اپنے غریق رحمت میں جگہ دے۔ سیمینار کے آخر میں براہوئی ادب کے تمام مرحومین اور امت مسلمہ کے تمام مرحومین کیلئے دعائے مغفرت کی، 36 ویں براہوئی ادبی سیمینار کے اختتام پر سندھ اور بلوچستان کے دور دراز سے آنے والے تمام مہمانوں عزت مندوں کو سے اظہار تشکر اور سیمینار کے خوش اسلوبی سے اختتام اور تاریخی کامیابی پر تمام معززین، معتبرین، ادیب، دانشوروں کو دلی مبارکباد دی ہے۔


