خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی کے حوالے سے صوبائی اسمبلی میں امن جرگہ کے انعقاد
پشاور (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں حالیہ دہشت گردی میں اضافے کے پیش نظر امن و امان کی صورتحال پر غور کرنے کے لیے صوبائی اسمبلی میں امن جرگہ شروع ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق 25 اکتوبر کو ضلع خیبر میں منعقد ہونے والے گزشتہ جرگے کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے قبائلی اضلاع میں کسی نئی فوجی کارروائی کے آغاز کے خلاف خبردار کیا تھا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی صوبائی حکومت کی دعوت پر اس تقریب میں شریک ہیں، جب کہ وفاقی حکومت کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی (جے آئی)کے رہنما بھی اس جرگہ میں شریک ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اس جرگے کی صدارت کر رہے ہیں، جس کا مقصد صوبے میں امن بحالی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کی حکمت عملیوں پر غور کرنا ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ (ن) کے اباداللہ خان بھی اس اجلاس میں شریک ہیں۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ آفریدی نے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے تمام شرکا کو خوش آمدید کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے توقع ہے کہ اس جرگہ کے ذریعے دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایک پائیدار اور مستقل حل تلاش کر لیا جائے گا، ہم بار بار امن کی بات کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں کو امن پسند نہیں۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پاس بہادر مسلح افواج موجود ہیں، لیکن یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ انٹیلی جنس آپریشنز کے باوجود ملک میں امن کیوں قائم نہیں ہو رہا۔ اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین اور سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے وفود بھی امن جرگے میں شریک ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ محمود خان، سابق گورنر شوکت اللہ خان، پاکستان مزدور کسان پارٹی کے مرکزی چیئرمین افضل شاہ خاموش، وکلا اور مختلف طبقہ فکر کے نمائندے بھی شرکا میں شامل ہیں۔


