مستعفی ہونیوالے سینئر جج جانبدار اور سیاسی فیصلے دے رہے تھے، ملکی استحکام کیلئے ایک اور آئینی ترمیم لا سکتے ہیں، طلال چوہدری
فیصل آباد (ویب ڈیسک) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکمران اتحاد ملک میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضرورت پڑنے پر ایک اور آئینی ترمیم بھی لا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بیان 27 ویں ترمیم کے 3 روز بعد اتوار کو فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران دیا، واضح رہے کہ 27 ویں ترمیم کو رواں ہفتے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد قانون کا حصہ بنا دیا گیا تھا، اس عمل کی اپوزیشن جماعتوں نے شدید مخالفت کی تھی۔ طلال چوہدری نے اصرار کیا کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم نے ملک کو ’استحکام‘ فراہم کیا، انہوں نے کہا کہ ’اگر اس استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اور ترمیم درکار ہوئی تو ہم اسے بھی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ضرور لائیں گے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ جب چاہے ترمیم کر سکتی ہے، اور یہ کام پارلیمنٹ ہی کو کرنا چاہیے، ’پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ ہی نظر آنا چاہیے‘۔ ایک سوال کے جواب میں طلال چوہدری نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے حالیہ استعفوں کو ’سیاسی‘ قرار دیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے، جج آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں، وہ کوئی سیاسی جماعت نہیں کہ آئین میں ترمیم ہو تو استعفیٰ دے دیں، انہوں نے کہا کہ آئین ججوں کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور عوام کی خواہش کے مطابق چلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ججوں کی ہر چیز، ان کی تنخواہوں سے لے کر ان کے اختیارات تک، سب کچھ پارلیمنٹ ہی طے کرتی ہے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ مستعفی ہونے والے سینئر جج ’جانبدار‘ تھے اور ’سیاسی‘ فیصلے دے رہے تھے۔


