21نومبر کو ملک میں کالے جھنڈوں کیساتھ یوم سیاہ منایا جائے گا جمعہ نماز کے بعدپرامن احتجاج کیلئے نکلیں گے، محمود خان اچکزئی

اسلام آباد/کوئٹہ ( آئی این پی ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ ہاﺅس سے سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 21نومبر بروز جمعہ ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گااور پر امن احتجاج ہوگا، تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27ویں ترمیم کے خلاف وکلاء، دانشوروں ، اقتصادیات کے ماہرین ، صحافیوں سب کے ساتھ فیصلہ کیا ہے کہ ایک قومی کانفرنس ہوگی جس میں ججز ، جرنلسٹ، دانشور لوگ جمع ہونگے اور پھر اس بربادی جو گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں ہوئی جس سے 27ویں ترمیم پاس کی گئی کہ خلاف ہم سب نے اکھٹا ہونا ہوگا ۔ محمود خان اچکزئی نے کہاکہ ہم مسلمان ہےں اورقرآن کریم پریقین رکھتے ہیں ،ہمارا آئین کہتا ہے کہ یہاں اسلام کے خلاف کوئی قانون نہیں بنے گا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ میرے سوا ہر آدمی کا احتساب ہوگا۔ بڑے بڑے پیغمبر علیہ اسلام کوبھی استثنیٰ نہیں ملی لیکن یہاں صدر ، وزیر اعظم اورآرمی چیف کو استثنیٰ دیا جارہا ہے۔ پہلے ہی یہ قاتلو ں ، دہشتگردوں کی حکومت ہے انہوں نے 8فروری کے انتخابات میںبندوق کی زور پرملٹری کی طاقت سے 25کرورڑ عوام کو دہشت زدہ کرکے عمران خان کی پارٹی کا مینڈیٹ چھینا۔ یہاں تک کہ اقلیتوں،مخصوص سیٹیں بھی خیرات کی طرح بانٹ دی گئی اور کسی بھی پارٹی نے اسے لینے سے انکار نہیں کیا۔ جعلی دوو تہائی اکثریت کرکے آئین کی بنیادوں پر حملہ آور ہوئے۔ یہ پارلیمنٹ اگر 100فیصد بھی ایک پارٹی کے پاس ہو وہ آئین میں ایسی ترمیم کا بالکل حق نہیں رکھتی کہ اس کے بنیادی ڈھانچہ کو تباہ کردے۔ آئینی ڈھانچہ یہ ہے کہ یہاں آئین بالادست ہوگی ، فوج ، عدلیہ سب اپنے اپنے آئینی فریم میں آزاد ہوں گے۔ آئین پر حملہ ہوا ہے ، شہباز شریف، پیپلز پارٹی اور وہ فوجی جو اپنے حلف کا احترام نہیں کرتے ۔ ہم سب بار بار آئین کی دفاع کا حلف لیا ہے۔ اس وقت آئین کو پائمال کیا گیا ہے اسے برباد کردیا گیا ہے ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ اپنے اس سماجی معاہدے کو بچانے کے لیے نکل پڑے۔ اگر ہم نے دیر کردی تو خدانخواستہ پھر ایسے لوگ نکلے گے وہ اعلان کرینگے نئی آئین ساز اسمبلی ۔ آپ نے یہ آئین پھاڑ دیا ہے ہم یہ نہیں مانتے پھر پاکستان بہت بڑے بحران میں مبتلا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ 21نومبر کو ملک بھر میں بروز جمعہ یوم سیاہ ہوگا ، ہم سیاہ جھنڈے لہرائیں گے۔ جمعہ کے نماز کے ہم نکلیں گے ۔خیبر پشتونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سیاہ جھنڈیوں اور سیاہ دن کا اہتمام کریں ۔ ہم علماءکرام سے کہتے کہ وہ تحریک تحفظ آئین پاکستان ، عمران خان کے لیے نہیں بلکہ قرآن ، ایمان کے لیے ایسے کفر وشرک کا راستہ روکے جس میں چور، ڈاکو ، قاتلوں کو عمر بھر کا استثنیٰ دیا جارہا ہے یہ ظلم ہے ۔ ہر عالم دین چاہے اس کا تعلق کسی بھی مسلک سے ہو ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ناجائز حکومت کو غیر اسلامی ، غیر جمہوری اور غیر آئینی اعلان کرے اور یوم سیاہ کے لیے لوگوں کو تیار کریں۔ ہم کسی کو گالی دینگے نہ کسی کو بُرا بھلا کہینگے ۔ ہم نے پر امن انداز سے احتجاج کرنا ہے اور اس شہباز اینڈ کمپنی حکومت کو فارغ کرنا ہے اور آئین ، جمہوریت کے ذریعے ایک نئے جمہوری پاکستان کی تشکیل کرنی ہے ۔ آخر میں محمود خان اچکزئی نے نعرہ تکبیر اللہ اکبر ، جمہوریت زندہ باد، آمریت مرد ہ باد ، عمران خان سمیت تمام قیدیوں کو رہا کرو ، آئین بحال کرو کے نعریں بلند کیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں