ہرنائی میں کول مائنز لیبر اور مشینری کی سیکورٹی کیلئے نجی مسلح لشکر بنانے کے ضلعی انتظامیہ کے احکامات غیر آئینی و غیر قانونی ہیں، این ڈی ایم

کوئٹہ (آن لائن) نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی بیان میں ضلع ہرنائی میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کول مائنز اونرز اور ٹھیکیداروں کو مائنز لیبر اور مشینری و مائننگ کی سیکورٹی کیلئے نجی مسلح لشکر بنانے کے مراسلے اور احکامات کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکومت و اعلی انتظامی افسران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس غیر قانونی احکامات کا فی الفور نوٹس لیکر اس کو واپس لینے اور قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکی آئین و قانونی کے تحت کول مائنز و لیبر سمیت عوام کے کاروبار و تجارت اور جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست و حکومت اور سیکورٹی کے اداروں کی ہے اور اس کیلئے سالانہ کھربوں روپے عوامی خزانے سے مختص کیے جاتے ہیں۔ ضلع ہرنائی کی کول مائننگ اور کاروبار سے سالانہ اربوں روپے کا انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور رائلٹی صوبائی و وفاقی حکومتوں کو جمع ہوتا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے مائنز اونرز اور ٹھیکیداروں کو مسلح افراد کا لشکر بنانے کے احکامات کا مقصد ریاست و حکومت اور سیکورٹی کے اداروں بشمول ضلعی انتظامیہ کا امن و امان اور عوام کی تجارت و کاروبار کی تحفظ کے فرائض سے دستبرداری کے مترادف ہے۔ پرائیویٹ ملسح لشکر اور جتھوں کے قیام سے کلاشنکوف کلچر اور بدامنی، لاقانونیت کو مزید فروغ ملے گا جو ضلع ہرنائی کے عوام کے خلاف جاری سازشوں اور منفی عزائم اور پالیسی کا حصہ ہوسکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت اور حکام بالا نے اس کا فوری نوٹس نہ لیا اور ڈپٹی کمشنر کا اپنی مینڈیٹ اور قانون کے برخلاف احکامات واپس نہ لیے اور کول مائنز و لیبر سمیت عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری قبول نہیں کی تو کول مائنز اونرز، ٹھیکیدار اور عوام سیاسی پارٹیوں کی قیادت میں احتجاج اور عدالتی چارہ جوئی پر مجبور ہوں گے۔ بیان میں تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس منصوبے کے خلاف جمہوری اواز بلند کرتے ہوئے مشترکہ احتجاج پر غور کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں