کچھی بولان میں چوروں اور ڈاکوﺅں کی لوٹ مار سے کوئی بھی محفوظ نہیں، آئی جی پولیس بلوچستان نوٹس لیں، عوامی حلقے
بولان (نامہ نگار) بلوچستان کے ضلع کچھی بولان میں امن وامان کا سورج غروب آفتاب بنا ہوا ہے چور ڈاکوﺅں نے کچھی پولیس کی رٹ کو گھر کی لونڈی بنا رکھا ہے کچھی ضلع کے علاقوں بالاناڑی، حاجی شہر، اور بھاگ میں امن و امان کی خراب صورتحال، جہاں چور ڈاکو خواتین (ماں، بہنوں، بیٹیوں) کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار کر کے قبائلی اور معاشرتی روایات کو پامال کر رہے ہیں ان واقعات کی وجہ سے مقامی آبادی خاص طور پر خواتین میں کس قدر خوف اور عدم تحفظ پایا جا رہا ہے اور ان کا روزمرہ کا معمول بھی بری طرح متاثر ہو چکا ہے علاج و معالجے کے لئیے اپنی فیملی کو لے جانے والے مرد نوجوان خوف وہراس کے ڈپریشن کا شکار ہو چکے ہیں خواتین کی بے عزتی اور غیر اخلاقی رویوں سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ براہ راست بلوچستان کی قبائلی اقدار اور روایات پر بھی حملہ ہے جو کہ معاشرتی ڈھانچے کو کمزور بن دیا ہے کچھی پولیس خوب خرگوش کی نیند میں غفلت کی اہم ذمہ داریاں نبھانے میں اپنا بھر پور کام سر انجام دے رہی ہے عام آدمی اور ٹرانسپورٹ سر عام پولیس کے ناک کے نیچے لوٹی جا رہی ہے چور ڈاکووں نے کچھی پولیس کی رٹ کو گھر کی لونڈی بنا کر بڑا چیلنج دے رکھا ہوا ہے ایک ہزار سے زائد لیویز فورس پولیس میں ضم ہونے والی نفری تھانوں میں کاغذی کارروائیوں تک محدود نظر آ رہی ہے کچھی بالاناڑی حاجی شہر اور بھاگ کے سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کچھی پولیس امن وامان کی بحالی میں کوئی اقدامات نہیں کر پا رہی ہے چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے چور ڈاکووں نے بالاناڑی حاجی شہر اور بھاگ عوام کا جینا حرام کر رکھا ہے اور پولیس انتظامیہ نیند کی کروٹیں بدلنے کے کام کر رہی ہے کچھی بالاناڑی حاجی شہر اور بھاگ کی عوام سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں وفاقی وزیر داخلہ ،نے آئی جی پولیس بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بالاناڑی، حاجی شہر اور بھاگ کے عوام کی عزت اور جان و مال کی حفاظت یقینی نہیں بنائی جائے اور کوتاہی برتنے والے آفیسران کے خلاف محکمانہ سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔


