اراکین کیخلاف منظم منفی پروپیگنڈا کرنیوالے سوشل میڈیا پیج کو بے نقاب کیا جائے، اسپیکر بلوچستان اسمبلی
کوئٹہ (یو این اے) بلوچستان لیکس کے نام پر منفی پروپیگنڈا ناقابل برداشت، اسمبلی کا دوٹوک موقف، سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ طلب، قانونی کارروائی کا آغاز، اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کی واضح رولنگ کی روشنی میں بلوچستان لیکس کے نام سے چلنے والے سوشل میڈیا پیج کے ذریعے اراکین اسمبلی کے خلاف منفی، گمراہ کن اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو طلب کر لیا گیا۔ ایوان نے اس امر کا اعادہ کیا کہ اسمبلی کردار کشی، جھوٹے الزامات اور بلیک میلنگ کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گی اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔یہ معاملہ قائد حزب اختلاف یونس عزیز زہری نے نکتہ اعتراض پر ایوان میں اٹھایا، جہاں انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ سوشل میڈیا پیج اراکین اسمبلی کے خلاف منظم انداز میں منفی پروپیگنڈا اور کردار کشی میں ملوث ہے، جو جمہوری اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔اجلاس میں اسپیکر عبدالخالق خان اچکزئی، قائد حزب اختلاف یونس عزیز زہری، اصغر علی رند، رحمت صالح بلوچ، فرح عظیم شاہ، خیر جان بلوچ، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، نور محمد دمڑ، علی مدد جتک، سنجے کمار اور فضل قادر مندوخیل نے شرکت کی۔ جبکہ سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق خان بھی موجود تھے۔قائدِ حزب اختلاف یونس عزیز زہری نے کہا کہ اراکینِ اسمبلی پر مہذب لبادے میں بے بنیاد الزامات لگانا قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس منفی مہم کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ جعلی اور گمراہ کن معلومات پھیلانے والے سوشل میڈیا اکانٹس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں، کیونکہ بلا ثبوت الزامات صریحا کردار کشی کے مترادف ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ احتساب ایک اصول ہے اور ہم اس کے لیے تیار ہیں، مگر جھوٹ، منفی پروپیگنڈا اور جعلی مہم کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ایسے عناصر کو قانون کے مطابق سامنے لایا جائے۔فرح عظیم شاہ نے کہا کہ تعمیری اور مثبت احتساب قابل تحسین ہے، تاہم بلوچستان لیکس مجموعی طور پر منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ موثر اور بروقت کارروائی کرے گا۔نور محمد دمڑ نے اس موقع پر کہا کہ اگر اراکین کرپٹ ہوتے تو عوام بار بار اعتماد نہ کرتے۔ ایسی منفی مہم نہ صرف منتخب نمائندوں بلکہ بلوچستان کی مجموعی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔علی مدد جتک نے کہا کہ جعلی آئی ڈیز کے ذریعے منظم مہم چلائی جا رہی ہے اور ریاست مخالف عناصر معمولی معاملات کو بنیاد بنا کر ساکھ متاثر کر رہے ہیں۔سنجے کمار نے کہا کہ ماضی میں ایسے معاملات پر مثر نوٹس کم دیکھنے میں آئے، اس لیے اس بار سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدام ناگزیر ہے۔تمام اراکین اسمبلی نے متفقہ طور پر منفی پروپیگنڈے اور کردار کشی کی شدید مذمت کی۔اس موقع پر اسپیکر عبدالخالق خان اچکزئی نے کہا کہ آج کا اجلاس نتیجہ خیز ہے اور اسمبلی محض بیانات تک محدود نہیں رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، مگر بغیر ثبوت الزامات ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے عوام کو دعوت دی کہ جاری اور مکمل شدہ اسکیموں کا خود جائزہ لیں۔اسپیکر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر بلوچستان لیکس کا مقصد بلیک میلنگ ہے تو اسمبلی ہرگز بلیک میل نہیں ہوگی۔ انہوں نے سائبر کرائم ٹیم سے استفسار کیا کہ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کتنا وقت درکار ہوگا۔ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم طارق خان نے بتایا کہ ہتک عزت کے مقدمات میں گرفتاری کے لیے عدالتی احکامات ضروری ہوتے ہیں، تاہم ابتدائی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور قانونی و تکنیکی تقاضوں کے تحت سیکشن 20 اور سیکشن 26-A کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اجتماعی شکایت درج کرانے کی تجویز بھی دی۔سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ دراصل اجتماعی شکایت کے مترادف ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اراکین انفرادی شکایات بھی جمع کرا سکتے ہیں۔اسپیکر نے ہدایت کی کہ تمام قانونی اور انتظامی وسائل بروئے کار لا کر سب سے پہلے مذکورہ سوشل میڈیا پیج کو بے نقاب کیا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس کے دوران بعض افراد کی نشاندہی بھی کی گئی، جن کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔آخر میں اسپیکر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں بلوچستان لیکس کو بے نقاب کیا جائے گا اور اس کے بعد دیگر معاملات قانون کے مطابق نمٹائے جائیں گے، جبکہ توقع ظاہر کی کہ سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ جلد پیش رفت سے آگاہ کرے گا۔


