توشہ خانہ کیس 2، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا، فی کس ایک کروڑ 64 لاکھ 500 روپے جرمانہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت 10،10 سال قید کی سزا سنائی ہے، جبکہ دفعہ 2، 5 اور 47 کے تحت دونوں پر سات، سات سال کی الگ الگ قید بھی مقرر کی گئی ہے۔ عدالت نے دونوں پر فی کس ایک کروڑ 64 لاکھ 500 روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید چھ، چھ ماہ قید کی سزا ہوگی۔ توشہ خانہ ٹو کیس کے تحریری فیصلے کے مطابق عمران خان کو زائدالعمر ہونے اور بشریٰ بی بی کو خاتون ہونے پر کم سزا دی گئی ہے، جبکہ مجرموں کے عرصہِ حوالات کو بھی سزا میں شامل کرلیا گیا ہے۔ ہفتے کو اسپیشل جج سینٹرل شاہ ر±خ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ توشہ خانہ ٹو کیس کی 80 سے زائد سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہوئیں، سرکار کی جانب سے وفاقی پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی، بیرسٹر عمیر مجید ملک، بلال بٹ اور شاہویز گیلانی نے کیس کی پیروی کی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا کیس ان کے وکیل ارشد تبریز، قوثین فیصل مفتی اور بیرسٹر سلمان صفدر نے لڑا۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی 37 دن تک اڈیالہ جیل میں نیب کی تحویل میں رہے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد نیب نے 20 اگست کو احتساب عدالت میں توشہ خانہ ٹو کیس کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ توشہ خانہ ٹو کیس میں 12 دسمبر کو عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں