بلدیاتی انتخابات کے التوا کیخلاف عدالت سے رجوع کیا، حکومت اور حکومتی جماعتوں کو راہ فرار سے روکیں گے، نیشنل پارٹی
کوئٹہ (ویب ڈیسک) نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اسلم بلوچ نے پارٹی کے رکن اسمبلی گلو م نیاز بلوچ نیشنل پارٹی وکلا فورم کے سربراہان ایڈووکیٹ راحب بلیدی ، ایڈووکیٹ چنگیز حئی بلوچ ایڈووکیٹ بیرسٹر جلیل لانگو سمیت نیشنل پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین کی بہت بڑی تعداد کے ساتھ بلوچستان ہائی کورٹ میں حکومتی جماعتوں کی جانب سے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرنے کیلئے لگائی گئی پٹیشن کے خلاف اینٹی پٹیشن دائر کی جس کا مقصد 28دسمبر کو الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا ہے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر چیئرمین اسلم بلوچ نے کہا کہ حکومتی جماعتوں کو عوام نے بری طرح مسترد کردیا ہے ان کا ٹکٹ لینے کو کوئی تیار نہیں 2000امیدواران نے کاغذات نامزدگی کے لیئے درخواست جمع لیئے ہیں جن میں سے صرف 122کا تعلق حکومتی جماعتوں سے ہے اس لیئے وہ اخلاقی طورپر انتخاب ہار گئے ہیں ان کو خوف ہے کہ اگر جنرل الیکشن 2024کی طرح نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو گلی گلی میں دھرنا ہوگا اس لیئے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار کا راستہ ڈھونڈھ رہے ہیں۔ دوسری جانب ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے گزشتہ سات سال سے اربوں روپے کی بدعنوانیوں کا سلسلہ جاری ہے، پندرہ کروڑ روپے سے میونسپل کارپوریشن کوئٹہ شہر کو صاف کرنے کا جو کام کررہا تھا آج یہ کام ایک منظور نظر ٹھیکیدار کے ذریعے 150کروڑ روپے میں کرایا جارہا ہے جبکہ میونسپل کارپوریشن کا سارا عملہ افرادی قوت اور مشینری بھی اس لاڈلے ٹھیکیدار کے حوالے کیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ کے مجموعی تاجران دکانداروں کو بھی پابند کی گئی ہے کہ وہ ماہانہ پانچ سو سے ایک ہزار روپے مذکورہ ٹھیکیدار کو ادا کریں اب اس کرپشن کو طول دینے کےلیئے عدالت کا سہارا لیا جارہا ہے اس عمل میں ٹھیکیدار سے لیکر مسلط کردہ حکومت تک سب شامل ہیں۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ نے کہا کہ انتخابات کے لیئے تمام مراحل مکمل ہوچکے ہیں اس موقع پر انتخابات کا التوا کوئٹہ کے عوام کے ساتھ ظلم ثابت ہوگا جبکہ 103سے زائد کونسلران بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں، ایڈووکیٹ راحب بلیدی نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کا اپنا ہی فیصلہ ہے کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا جلد انعقاد ہو اب جبکہ پولنگ میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے ہمیں امید ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ میرٹ پر فیصلہ کرتے ہوئے حکومت اور حکومتی جماعتوں کو راہ فرار سے روکیں گے۔


