بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلہ کرنیوالوں نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی لائی، عمران خان سیکورٹی تھریٹ نہیں انشورنس پالیسی ہے، سہیل آفریدی
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام قومی کانفرنس کے دوسرے روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لندن میں بند کمروں میں بیٹھ کر رجیم چینج کا فیصلہ کریں گے تو معیشت اور صوبوں کا حال یہ ہی ہو گا جو آج ہے اوپر وہ لوگ بیٹھا دیے ہیں جو خیبرپختونخوا سے مسلسل امتیازی سلوک کر رہے ہیں ایک وزیر اعلیٰ کے لیے AIR FORCE اور دوسرے وزیر اعلیٰ کا پاسپورٹ تک بلاک ہے۔ جب ہم نے خیبرپختونخوا اسمبلی امن جرگہ کیا تو جن کو امن پسند نہیں انہوں نے پی ٹی ایم کے لوگ اٹھا لیے میں نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ زمینی حقائق سے ناواقف ہیں جس کی وجہ سے خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اور آج 78 سال میں پشاور یونیورسٹی میں پہلی مرتبہ ان کی بیوقوفی کی وجہ سے اداروں کے خلاف نعرہ لگ گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی لائی گئی ہے ہم انکو روکتے رہے اور بتاتے رہے کہ آپ کے بند کمروں کے فیصلے خیبرپختونخوا کی عوام کو بھگتنے پڑیں گے انہوں نے کہا آپ جھوٹ بول رہے ہیں آج آپریشن کی تیاریاں کر رہے ہیں یا تو یہ پہلے غلط تھے یا آج غلط ہیں۔ 78 سالوں میں انکے ہر ہر فیصلے کا پاکستان کو نقصان ہوا ہے ہم نے امن جرگہ کر کے انکو تجاویز دیں کہ خیبرپختونخوا حکومت ، پارلیمنٹ اور قومی مشیران کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کریں۔خود ہی پریس کانفرنس کرنے آجاتے ہو اور کہتے ہو عمران خان سکیورٹی تھریٹ ہے ، اوئے بیوقوفو عمران خان سکیورٹی تھریٹ نہیں انشورنس پالیسی ہے رجیم چینج کے بعد اپنا گراف دیکھ لو اور عمران خان کا گراف دیکھ لو۔آپ کو قانون اجازت نہیں دیتا کہ سیاست میں مداخلت کریں پہلے آپ یہ سب کرتے تھے تو چل جاتا تھا کیونکہ سوشل میڈیا نہیں تھا آج سوشل میڈیا پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیبلشمنٹ ہے جو آپ کے کرتوت دنیا کو دیکھاتا ہے اور سچ عوام تک پہنچا رہا ہے۔اس طرح ملک نہیں چل سکتا آپ نے اپنی انا اور بغض میں عمران خان اور بشری بی بی کو ناحق قید کر رکھا ہے ایسے کام نہیں چلے گا۔ آج پاکستان 80 ہزار ارب کا مقروض ہوچکا جس میں 36 ہزار ارب بیرونی قرضہ جو پاکستان کے ڈالر کے ریٹ سے منسلک ہے، ڈالر کا ریٹ فارن ریزرو کے ساتھ منسلک ہے جو کہ آج بیس بلین ڈالرز ہیں جن میں ستر فیصد حصہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے قرضے کا یا دوست ممالک کی دی گئی خیرات کا پڑا ہوا ہے۔ تین سے چار ارب فارن ریمیٹینسز ہیں باقی برآمدات ہیں ہی نہیں اگر یہ پیسہ دوست ممالک نے واپس مانگ لیا تو جو ڈالر کا ریٹ انہوں نے مصنوعی 280 پہ روکا ہوا یہ 400 کراس کر جائے گا۔


