ایچ ای سی کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ کیلئے جاری حالیہ اسکالر شپس بھی کرپشن کی نذر ہونے کا اندیشہ

کوئٹہ (ویب ڈیسک) ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ کیلئے جاری حالیہ اسکالر شپس بھی کرپشن کی نذر ہونے کا اندیشہ۔ اس سے قبل آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے تحت طلبہ کیلئے ایچ ای سی کو دی گئی اسکالر شپس بھی خورد برد کی نذر ہوگئی تھیں۔ اس حوالے سے ایچ ای سی کے بااختیار حلقے اور پروجیکٹ ڈائریکٹر دارا شکو کی جانب سے گزشتہ اسکالر شپس بھی بلوچستان کے طلبہ کو نہیں مل سکی تھیں۔ اسکالر شپس غیر مقامی اور منظور نظر طلبہ میں تقسیم کردی گئی تھیں۔ میڈیا اور دیگر پلیٹ فورمز پر اس حوالے سے آواز اٹھانے اور احتجاج کے باوجود کوئی شنوائی نہ ہوسکی۔ نہ ہی ایچ ای سی نے اسکالر شپس میں خورد برد کے حوالے سے کوئی کارروائی کی اور نہ ہی اس تمام عمل میں ملوث اور ذمے دار پروجیکٹ ڈائریکٹر کیخلاف کوئی قانونی کارروائی کی گئی۔ بلوچستان کے طلبہ کی جانب سے ایک بار پھر یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایچ ای سی کو دی گئی حالیہ اسکالر شپس بھی طلبہ کو نہیں مل سکیں گی۔ طلبہ نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ پسماندہ بلوچستان کے طلبہ کو گزشتہ اسکالر شپس سے محروم رکھنے والے پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت دیگر ملوث افراد کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان کے طلبہ کو اسکالر شپس منصفانہ اور شفاف بنیاد پر فراہم کی جائیں۔ واضح رہے کہ ایچ ای سی نے بلوچستان کے طلبہ کے لیے LLM اور PhD اسکالر شپس کا اعلان کیا ہے، جن کے لیے لوکل سرٹیفکیٹ اور 50 فیصد نمبرز کی شرط رکھی گئی ہے۔ درخواست کی آخری تاریخ 13 جنوری 2026 ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں