گرینڈ الائنس کی ہڑتالیں بلوچستان کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جان اچکزئی
سابق ترجمان حکومت بلوچستان جان اچکزئی نے ایک وڈیو بیان میں کہا ہے کہ گرینڈ الائنس کی ہڑتالیں بلوچستان کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ یہ صوبہ وسائل سے مالا مال ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا 80 فیصد بجٹ صرف تنخواہوں اور پنشنز میں خرچ ہو جاتا ہے۔ ترقی کے لیے صرف 20 فیصد بچتا ہے، اور اگر وہ بھی تنخواہوں میں ڈال دیا جائے تو عوام کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ بلوچستان کی اپنی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے، زیادہ تر وفاقی امداد پر چلتا ہے۔ ایسے میں پنجاب یا اسلام آباد جیسی مراعات مانگنا حقیقت پسندانہ نہیں۔ حکومت مزید سرکاری نوکریاں فراہم نہیں کر سکتی، کیونکہ موجودہ ڈھانچہ پہلے ہی غیر پائیدار ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ صوبہ اسکولوں اور ہسپتالوں کی عمارتوں سے بھرا ہوا ہے، مگر اساتذہ اور ڈاکٹر اکثر غائب رہتے ہیں۔ اگر وہی توانائی جو احتجاج میں لگائی جا رہی ہے، کلاس رومز اور وارڈز میں لگتی تو بلوچستان کا حال مختلف ہوتا۔ ہم مانتے ہیں کہ مہنگائی سب کے لیے مسئلہ ہے، مگر اس کا حل یہ نہیں کہ ترقیاتی بجٹ ختم کر کے صرف تنخواہوں پر خرچ کیا جائے۔ اگر آج حکومت دباؤ میں آ کر مطالبات مان لے، تو کل بلوچستان کے پاس نہ اسکول بنانے کے پیسے ہوں گے، نہ ہسپتال چلانے کا بجٹ، نہ سڑک بنانے کی سکت۔ چند فیصد ملازمین پورے عوام کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ اصل انصاف یہ ہے کہ وسائل عوامی ترقی پر لگیں، نہ کہ صرف مراعات پر۔ لہٰذا، بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں، آپ سے گزارش ہے کہ فرائض پر واپس جائیں۔ عوام آپ سے خدمت چاہتے ہیں، احتجاج نہیں۔ حکومت مزید نوکریاں یا غیر پائیدار مراعات نہیں دے سکتی، مگر اگر آپ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تو بلوچستان کے عوام آپ کو عزت اور اعتماد ضرور دیں گے۔


