سیاسی معاملات میں فہم و فراست سے کام لینا چاہیے، اختر مینگل اور احسان شاہ کے درمیان فاصلے غلط فہمیوں کے باعث ہوئے، اسرار اللہ زہری
خضدار (نمائندہ انتخاب) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی صدر سابق وفاقی وزیرمیر اسرار اللہ خان زہری نے سابق صوبائی وزیر خزانہ سید احسان شاہ کی بی این پی مینگل سے علیحدگی کے ردعمل پراپنے ٹوئیٹ کے ذریعے جاری بیان میں کہا ہے کہ سردار اخترمینگل اور سید احسان شاہ دونوں میرے نزدیک قابل احترام اور دونوں سیاسی شخصیات ہیں۔ میر اسرار اللہ خان زہری کا کہنا تھا کہ اگرچہ ذاتی مفادات سے جڑے معاملات میں دونوں رہنما اپنے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہتے ہیں تاہم قومی اور سیاسی معاملات میں انہوں نے ہمیشہ لچک تدبر اور بالغ نظری کا مظاہرہ کیا ہے۔ میر اسرار اللہ خان زہری نے کہا کہ ماضی میں ان دونوں رہنماﺅں کے درمیان پیدا ہونے والی سیاسی پیچیدگیوں کو سلجھانے اور مفاہمت کی راہ ہموار کرنے میں جن معتبر شخصیات نے کردار ادا کیا تھا بدقسمتی سے وہ اب اس سیاسی منظرنامے میں موجود نہیں رہے جس کے باعث وقت کے ساتھ ساتھ فاصلوں میں اضافہ ہوتا چلاگیا اور ان کے مطابق سیاسی خلا اور رابطوں کے فقدان نے غلط فہمیوں کو جنم دیا جو موجودہ صورتحال کی ایک بڑی وجہ بنی میراسراراللہ خان نے ٹوئیٹ میں مزید کہا کہ سیاست میں بعض معاملات ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں عوامی سطح پر بیان کرنا نہ صرف مناسب نہیں ہوتا بلکہ بعض حقائق اور امور خواص تک ہی محدود رکھنا سیاسی حکمت اور اجتماعی مفاد کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر بات کا برسرِعام اظہار ضروری نہیں ہوتا اور وقت خود کئی سوالات کے جواب دے دیتا ہے میر اسرار اللہ خان زہری نے کہا کہ جام صاحب اس پوری صورتحال اس کے پس منظر اور محرکات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے نزدیک سیاسی معاملات میں عجلت کے بجائے صبر اور فہم وفراست سے کام لینا ہی بہتر راستہ ہوتا ہے انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سی باتیں خود بخود واضح ہو جائیں گی اور سیاسی فضاءمیں پائی جانے والی تلخی میں کمی آئے گی آخر میں انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کی سیاست میں مکالمہ برداشت اور قومی مفاد کو ہمیشہ ذاتی اختلافات اور وقتی تنازعات پر ترجیح دی جانی چاہیے کیونکہ صوبے کو درپیش اجتماعی مسائل کا حل صرف سیاسی بلوغت باہمی احترام اور وسیع تر قومی سوچ کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔


