ایران پر حملوں کی مذمت، اقوامِ متحدہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان عدم مداخلت کی ضمانت لے، اچکزئی

پشین(یو این اے ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک بحرانی حالت میں ہے ہمارے اطراف میں جنگیں ہورہی ہیں۔ ایران پر بلا جواز کسی قصور یا نقصان کے امریکہ اور اسرائیلی حملہ آور ہوئے،پورے عالم اسلام میں سوائے افغانستان کے طالبان حکومت کے کسی نے بھی ایران کی حمایت نہیں کی۔آج کا یہ جلسہ یہ قرار داد پیش کرتی ہے کہ امریکہ اور اس کے ساتھ روس اور اس کے ساتی افغانستان کے قرضدار ہیں انہیں افغانستان کو بنانا ہوگا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل افغانستان اور پاکستان کے تمام ہمسایوں کو بلا کر بٹھائیں اور ایک دوسرے کے ممالک میں مداخلت سے انہیں ایک دوسرے سے گارنٹی لیکر دیں۔ ایران کی جنگ یہاں نہیں رکے گی یہ اگر خدانخواستہ بڑھتی جائے تو پشتونخوامیپ یہ تجویز کرتی ہے کہ پاکستان کی تمام پارٹیاں مل بیٹھ کر ایک یا دو سال کے لیے ایک قومی حکومت بنالیں پھر یہ قومی حکومت ایک آزاد خودمختاری الیکشن کمیشن بنائیں اور دنیا کی ضمانت پر ایسے انتخابات کا انعقاد کرے جس میں ہر آدمی کو ووٹ کا حق حاصل ہو اور عوام نے جس کو صحیح ووٹ دیئے انہیں حکمرانی کا حق دیا جائے۔ پاکستان میں پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو گی، عدالت اپنے فریم میں آزادی ہوگی، فوج اور ادارے اپنے دائرہ اختیار کے اندر ہو، ووٹ کی عزت ہوگی، الیکشن صاف شفاف ہوں گے یہاں کے مسائل کا حل ایک حقیقی جمہوری حکومت ہے۔ ہم پاکستان بنانا چاہتے ہیں پاکستان میں جمہوریت کی حاکمیت، آئین کی بالادستی ہوگی۔ آئین سب مل کر ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور پاکستان کے موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کریں کیونکہ یہ بحران آسمانی نہیں ہیں یہ بحران انسانوں کے پیدا کردہ ہیں،پاکستان میں ظالم حکمرانوں کو شکست دینا ہوگی، ایسا پاکستان نہیں جس میں غریب کے لیے روزگار نہیں ہوگا جس میں ظالم کا مظلوم پر جبر ہوگا۔ہم عمران خان اور ان کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں جب تک انہیں رہا نہیں کیا جاتا۔ہم فوج اور جاسوسی اداروں کے مخالف نہیں لیکن ہر کسی نے اپنا اپنا کام کرنا ہوگا۔ملک کے تمام صوبوں میں پشتونوں کے ثقافت کی تضحیک، روزگار کو ختم کیا جارہا ہے، ہم تمام دنیا کے انسانوں کے ساتھ بھائی چارہ چاہتے ہیں، پاکستان کی عدالتوں سے عوام مایوس ہیں ہم نے اپنی عدالتیں اپنا جرگہ نظام بحال کرنا ہوگا۔پشین کا یہ میدان پاکستان کے تمام جمہوری تحریکوں کا وہ میدان ہوگا جہاں سے جمہوریت کے لیے تحریکوں کا آغاز ہوگا اور پاکستان میں ظالم حکمرانوں کو شکست دینا ہوگی،وزیر اعلی سرفراز بگٹی اس عید پر معاف کررہا ہوں بڑے عید پر تمہارا حال بھی بیان کرونگا۔ یہاں 8فروری 2024جو الیکشن ہوا بھیڑ بکریوں کی طرح لوگ بکتے رہے،سب اس بات پر متفق ہوئے کہ اس الیکشن میں عمران خان کو اقتدار سے روکنا ہے یہاں تک کے پاکستان کے سپریم کورٹ نے عمران خان کی پارٹی سے انتخابی نشان چھین لیا۔ آج پاکستان میں چوروں کی حکومت اور بحران حالت ہے۔پاکستان توپوں کی سلامی سے نہیں عوام کی ہمت اور جمہورکی حکمرانی اور آئین کی بالادستی سے بنے گی۔ مولانا فضل الرحمن صاحب، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اکھٹے ہوکر فوج کو بتادیں کہ یہ کام آپ لوگوں کا نہیں ہے اپنی چھاونیوں کے اندر چلے جائیں۔ یہاں ہمارے قدرتی خزانوں پر قبضہ گر قوتوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔ ان قبضہ گر قوتوں کو کسی بھی طریقے سے اپنے وسائل کے قبضے پر سے ہٹانا ہے اور ظالم کے ساتھ مقابلہ سب سے بہترین جہاد ہے۔ پاکستان کے آئین میں 26ویں، 27ویں ترامیم جو کی گئی ہیں انہیں توواپس لینا ہوگا۔ صحیح پاک صاف آئین ہوگا اور تمام قوموں کے قدرتی وسائل پر ان کے بچوں کا پہلا حق تسلیم کرنا ہوگا پھر پاکستان بن سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام ضلع پشین میں عید الفطر کے روایتی عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ عام سے وزیر اعلی خیبر پشتونخوسہیل خان آفریدی، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی، پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی، صوبائی صدر تحریک انصاف داد شاہ کاکڑ، پشتونخوامیپ کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سردار امجد خان ترین، پی ٹی آئی کے ایم این اے ملک عادل خان بازئی نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ قراردادیں پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری عبدالحق ابدال نے پیش کیں۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض پشتونخوامیپ کے صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، ضلع سیکرٹری عمر خان ترین اور ضلعی رابطہ سیکرٹری علی محمد کلیوال سرانجام دیتے رہے جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی شراف الدین صاحب نے حاصل کی اور خصوصی دعا بھی۔ جلسہ عام میں پشتونخوامیپ اور پاکستان تحریک انصاف کے دیگر مرکزی وصوبائی قائدین بھی شریک تھے۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ ایک شاعر کہتا ہے کہ ہم خیبر کے پشتون نوجوان ہیں پشتو ہماری شان ہے اور ہم پشتون ہیں اس دھرتی پہ ہمارے سرقربان ہیں۔ آج خیبر کے ساتھ پشین بھی منسلک ہوا۔ پشین کا یہ میدان پاکستان کے تمام جمہوری تحریکوں کا وہ میدان ہوگا جہاں سے جمہوریت کے لیے تحریکوں کا آغاز ہوگا اور پاکستان میں ظالم حکمرانوں کو شکست دینا ہوگی۔ پشین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان پشین سے ہی ابھری ہے اس کا آغاز پشین سے ہوا ہے۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے تمام کارکنوں کو داد تحسین اور غیور،جمہوریت پسند،قوم اور وطن دوست عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے آج اس کے عظیم الشان جلسہ عام میں بڑی تعداد میں شرکت کی اور اسے کامیاب بنایا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے تمام لوگ دعوی کررہے ہیں کہ ہم مسلمان اور خدا تعالی اور سول پاک ﷺ کے ماننے والے ہیں اور حق پر اپنے سروں کے نذرانے پیش کرینگے لیکن ایران پر بلا جواز کسی قصور یا نقصان کے امریکہ اور اسرائیلی حملہ آور ہوئے رمضان مبارک کے مہینے میں ایران کے مسلمانوں پر آگ برسائی پورے عالم اسلام میں سوائے افغانستان کے طالبان حکومت کے کسی نے بھی ایران کی حمایت نہیں کی۔یہ کیسا اسلام اور کس طرح کی مسلمانی ہے؟ آپ کے ہمسائے میں ایک مسلمان ملک جس کے ساتھ مذاکرات جاری تھے مذاکرات کے دوران اور مذاکرات کرانے والا ملک کہہ رہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ ہماری ثالثی میں یہ بات مان لی ہے کہ جس مواد سے ایٹم بم بنتا ہے وہ ہم صفر تک پہنچائینگے اس کے باوجود سمندروں میں بڑے بڑے سمندری بیڑوں کا رخ ایران کی جانب روانہ ہوئے اور ایران پر حملہ آور ہوئے۔ ہم پچھے تین سالوں سے یہی نعرے لگارہے تھے کہ جنگیں ہوں گی پشتونوں کو بیداری کے پیغامات دیئے کہ تیاری کریں جنگ کے دوران کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہماری بات کسی نے نہیں مانی آج آگ اور خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔روزہ کیسا گزرا ایران میں آپ اندازہ لگائیں۔ دنیا کی بدمعاشی اس حال تک پہنچ کی ہے کہ امریکہ جیسے طاقتور جمہوری ملک کے صدر کا کہنا ہے کہ میں نے ایران کے فلاں عالم دین کو قتل کرنا ہے ایران کے فلاں رہبر،فلاں فوجی، فلاں شخص کو مارنا ہے ایسی کھلی بدمعاشی،جارحیت ہم نے ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ایران کے لوگوں کا اللہ حامی ہو اور کسی نے ان کا ساتھ دینا ہے یا نہیں لیکن پشتونخواملی عوامی پارٹی کے ان کارکنوں پر لعنت ہو جس نے ایران کی حمایت نہیں کی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سہیل خان آفریدی خیبر سے آئے ہیں خیبر کے نوجوانوں نے ماضی میں بھی تاریخ رقم کی ہے۔یہاں سہیل خان آفریدی نے کہا کہ پاکستان ہم ہیں یہ بات حقیقت ہے ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر پشتون قوم نے خیبر سے لیکر وزیرستانیوں، مومند، آفریدی،صافی، توخئی، ترکئی ان تمام وطن کے پشتونوں نے فرنگی استعمار کے ساتھ ایک ایک پتھر پر لڑے نہیں ہوتے تو پاکستان کا بننا مفقود تھا۔ پاکستان پشتونوں کے تلوار کے نتیجے میں بنی ہے اور اسی تلوار سے بچے گی۔ ایسا پاکستان نہیں جس میں غریب کے لیے روزگار نہیں ہوگا جس میں ظالم کا مظلوم پر جبر ہوگا۔ ہم پاکستان بنانا چاہتے ہیں پاکستان میں جمہوریت کی حاکمیت، آئین کی بالادستی ہوگی۔ پشتونخوامیپ کے کارکنوں نے ایسے بہادر کارکن بننا ہوگا کہ ہر گاں،ہر گھر،ہر بستی اور ہر علاقے کے ظالم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج 23مارچ ہے اس تاریخ کو پاکستان 27توپوں کی سلامی دیتا ہے لیکن توپوں سے پاکستان نہیں بنتا پاکستان عوام کی ہمت سے بن سکتی ہے پاکستان اس طرح صحیح بن سکتا ہے جہاں ظلم جبر نہیں ہوگی، جہاں غریب کے روٹی کا بندوبست ہو،جہاں تعلیم وعلاج کا بندوبست ہو۔ ہم ملک کے تمام پشتون، بلوچ، سرائیکی، سندھی، کشمیری، پنجابی، گلگت بلتستانی، چترالی، کوہستانی عوام سے کہنا چاہتے ہیں کہ مہربانی کریں آئین سب مل کر ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور پاکستان کے موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کریں کیونکہ یہ بحران آسمانی نہیں ہیں یہ بحران انسانوں کے پیدا کردہ ہیں ہماری بدکاریوں، بدکرداریوں، رشوت خوریوں کی وجہ سے ہیں کہ آج کہہ رہے کہ پاکستان طیارے، ٹینک بنا رہا ہے لیکن گزارہ بھیک مانگنے پر ہے۔ یہاں کوئی بھی اس ملک کو اپنا ملک نہیں سمجھتا سب لوٹ کھسوٹ میں میں لگے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے وزیر اعلی سرفراز بگٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس عید پر معاف کررہا ہوں بڑے عید پر تمہارا حال بھی بیان کرونگا۔ یہاں الیکشن ہوا بھیڑ بکریوں کی طرح لوگ بکتے رہے، منڈی لگی ہوئی تھی،50کرورڑ تک پیسے لیتے رہے اور اسمبلی کی سیٹیں دیتے رہے تو جب کسی سے 50کرورڑ لیئے جائیں وہ اسمبلی پہنچ جائے تو وہ کیا کریگا اس ملک کے پیٹ سے یہ پیسے نکالے گا۔ پاکستان میں لوگ سب کچھ بیچتے ہیں ایسے لوگ جو سب کچھ بیچتے ہیں وہ پھر وطن کا دفاع نہیں کرسکتے وطن کو وہ لوگ سنبھال سکتے ہیں جنہیں وطن سے محبت ہو۔ اس الیکشن میں پاکستان کی فوج، پولیس، جاسوسی ادارے، عدالت اور سب اس بات پر متفق ہوئے کہ اس الیکشن میں عمران خان کو اقتدار سے روکنا ہے۔ پاکستان کے سپریم کورٹ نے عمران خان کی پارٹی سے انتخابی نشان چھین لیا۔ لیکن عمران خان کے کارکنوں نے ہمت کرکے دو سو سے زائد انتخابی نشانوں پر الیکشن لڑ کر ان کے نتائج تبدیل کردیئے اور آج پاکستان میں چوروں کی حکومت ہے اور ملک بحرانی حالت میں ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم پاکستان بنانا چاہتے ہیں، اس کے لیے ہماری تجویز ہے کہ پاکستان کی تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں کا کم سے کم ان نکات پر اتفاق ضروری ہے کہ پاکستان میں پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو گی، عدالت اپنے فرایم میں آزادی ہوگی، فوج اور ادارے اپنے دائرہ اختیار کے اندر ہو، ووٹ کی عزت ہوگی، الیکشن صاف شفاف ہوں گے۔ساتھ ہی پشتونخوامیپ تجویز کرتی ہے کہ اگر خدانخواستہ ایران کی جنگ یہاں نہیں رکے اور اگر بڑھتی جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی تمام پارٹیاں مل بیٹھ کر ایک قومی حکومت بنالیں ایک یا دو سال کے لیے قومی حکومت بنائیں پھر یہ قومی حکومت ایک آزاد خودمختاری الیکشن کمیشن بنائیں اور دنیا کی ضمانت پر ایسے انتخابات کا انعقاد کرے جس میں ہر آدمی کو ووٹ کا حق حاصل ہو اور عوام نے جس کو صحیح ووٹ دیئے انہیں حکمرانی کا حق دیا جائے۔ یہاں کے مسائل کا حل ایک حقیقی جمہوری حکومت ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن صاحب، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اکھٹے فوج کو بتادیں کہ یہ کام آپ لوگوں کا نہیں ہے۔ اپنی چھاونیوں کے اندر چلے جائیں، ہم فوج اور جاسوسی اداروں کے مخالف نہیں لیکن ہر کسی نے اپنا اپنا کام کرنا ہوگا۔ پاکستان 25کرورڑ بہادر انسانوں کا ملک ہے آج بھی سعودی عرب کے ممالک کی تعمیرات ان پاکستانی مزدوروں کے محنت کے نتیجے میں بنی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارا وطن دنیا کے تمام نعمتوں سے پر ہے پھر ہم کیوں دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں وجہ یہ ہے کہ ہمارے خزانوں پر قبضہ گر قوتیں براجمان ہیں۔ اللہ تعالی کہتا ہے کہ میں تمام زندہ مخلوقات کی رزق کا ضامن ہوں یہاں ہمارے قدرتی خزانوں پر قبضہ گر قوتوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔ ان قبضہ گر قوتوں کو کسی بھی طریقے سے اپنے وسائل کے قبضے پر سے ہٹانا ہے اور ظالم کے ساتھ مقابلہ سب سے بہترین جہاد ہے۔ پاکستان کے آئین میں 26ویں، 27ویں ترامیم جو کی گئی ہیں انہیں واپس لینا ہوگا۔ صحیح پاک صاف آئین ہوگا اور تمام قوموں کے قدرتی وسائل پر ان کے بچوں کا پہلا حق تسلیم کرنا ہوگا پھر پاکستان بن سکتا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغانستان نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے، افغانستان میں 1979 کو جب دسمبر کے 24تاریخ کو روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئی تو اسی دن سے آج تک افغانستان میں کشت وخون جاری ہے۔ اس وقت امریکہ نے کہاکہ روس نے ایک جمہوری ملک پر قبضہ کیا ہے تمام دنیا افغانستان کی طرف آئی 10سال افغانستان تیمورلنگ کی بربادی کے بعد جو افغانستان بنی تھی اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تباہ وبرباد کیا۔ آج کا یہ جلسہ یہ قرار داد پیش کرتی ہے کہ امریکہ اور اس کے ساتھی روس اور اس کے ساتھی افغانستان کے قرضدار ہیں انہیں افغانستان کو بنانا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج لوگ حیوانات کے حقوق کی باتیں کررہے ہیں اس حال میں ہمارے علما کرام محققین سب نے اس بات پر سوچنا ہوگا کہ پھر پشتون افغانستان کا قتل کیوں جائز ہے۔ ملک کے تمام صوبوں میں پشتونوں کے ثقافت کی تضحیک، روزگار کو ختم کیا جارہا ہے، ہم تمام دنیا کے انسانوں کے ساتھ بھائی چارہ چاہتے ہیں آج کا یہ عظیم الشان جلسہ ثابت کرتا ہے کہ آج اگر ہم یہ وعدہ کریں کہ ہم ظالم کے خلاف مظلوم کے ساتھی ہوں گے ہم پاکستان کے ظالموں کے ہاتھ باندھ سکتے ہیں۔ پاکستان کی عدالتوں سے عوام مایوس ہیں ہم نے اپنی عدالتیں اپنا جرگہ نظام بحال کرنا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کی جنگ دونوں ممالک کے نقصان میں ہے ہم اپیل کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل افغانستان اور پاکستان کے تمام ہمسایوں کو بلا کر بٹھائیں اور ایک دوسرے کے ممالک میں مداخلت سے انہیں ایک دوسرے سے گارنٹی لیکر دیں۔ہم عمران خان اور اس کے خاندان کے ساتھ ہیں جب تک عمران خان اور تمام سیاسی قیدی رہا نہیں ہوتے اور جمہوری پاکستان قائم نہیں ہوتا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے اور نہ ہی اپنے عوام کے حقوق پر کوئی سودا کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں