بلوچستان میں انتہائی مخدوش، دونوں فریقین مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، ڈاکٹر مالک
کوئٹہ (آن لائن) نیشنل پارٹی کلی اسماعیل کے زیرِ اہتمام پی بی 43 میں نئے شامل ہونے والے ساتھیوں اور پارٹی کارکنوں کے اعزاز میں عید ملن پارٹی کا اہتمام رکن بلوچستان اسمبلی و صوبائی خواتین سیکرٹری کلثوم نیاز بلوچ کی رہائش گاہ پر کیا گیا۔تقریب سے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی، صوبائی صدر اسلم بلوچ، مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، ضلعی صدر کوئٹہ حاجی عطا محمد بنگلزئی، رکن بلوچستان اسمبلی و نیشنل پارٹی کے صوبائی خواتین سیکرٹری کلثوم نیاز بلوچ بی ایس او پجار کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ابرار برکت بلوچ اور دیگر رہنماں نے خطاب کیا۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل پارٹی عوام کی حقِ حاکمیت اور جمہوری حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ بلوچستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے بامقصد مذاکرات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک کثیرالقومی ریاست ہے، جس میں بلوچ، پنجابی سندھی پشتون ہزارہ اور دیگر اقوام کو برابر کے حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ نیشنل پارٹی کا فلسفہ قومی اور طبقاتی جدوجہد پر مبنی ہے اور زورآوری کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور حقِ حکمرانی عوامی نمائندوں کے پاس ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں اور نظریات کو طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ آمریتیں ختم ہو جاتی ہیں،ایوب خان یحیی خان ضیا اور مشرف ختم ہوگئی لیکن میر غوث بخش بزنجو میر مولا بخش دشتی سمیت دیگر اقابرین ہمیشہ زندہ ہیں۔ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو مسخ کیا گیا اور ایسے افراد کو مسلط کیا گیا جن کا عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ نیشنل پارٹی وسائل پر عوام کی حقِ حاکمیت کی علمبردار ہے اور اس کے لیے جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت انتہائی مخدوش حالات سے گزر رہا ہے، نوجوان لاپتہ ہو رہے ہیں اور آئے روز لاشیں مل رہی ہیں۔ نیشنل پارٹی دونوں فریقین سے اپیل کرتی ہے کہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے اور ریاست لاپتہ افراد کو بازیاب کریں۔سابق وزیر اعلی نے خطے کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت قابل مذمت ہے اور عالمی برادری سے امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی کمیٹی کے بعد کوئٹہ کی تنظیم کو مکمل کریں گے اور پارٹی کو منظم کیا جائے گا۔تقریب کے نظامت کے فرائض نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان علی احمد لانگو نے سر انجام دی اور مہمانوں کا شکریہ نیشنل پارٹی کے ممبر کمیٹی نیاز بلوچ نے اور تلاوت کام کی سعادت مولانا لعل محمد بلوچ نے حاصل کی۔


