رہنماﺅں کے گھروں پر چھاپے قابل مذمت، سیاسی آوازوں کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوششیں بند کی جائیں، بی ایس او

کوئٹہ (پ ر) بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ خضدار میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میر رﺅف مینگل اور دیگر سیاسی رہنماﺅں کے گھروں پر چھاپوں، چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی، خواتین و بزرگوں کو ہراساں کرنے اور شہریوں کو گھنٹوں محصور رکھنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ مرکزی ترجمان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں، طلبائ، خواتین، دانشوروں اور عوامی نمائندوں کیخلاف طاقت کے استعمال نے پورے خطے کو خوف و بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک سابق منتخب رکن قومی اسمبلی اور عوامی نمائندے کے گھر کی حرمت محفوظ نہیں تو عام شہری کس طرح خود کو محفوظ تصور کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ سیاسی اختلاف رائے کو طاقت، دھونس، چھاپوں اور ہراسانی کے ذریعے دبانے کی کوششیں نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ آئین و انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں خضدار سمیت بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ کی طویل بندش، تعلیمی بحران اور طلباءکو درپیش مشکلات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلباءکو جدید تعلیم، آن لائن کلاسز، تحقیقی سہولیات اور علمی دنیا سے محروم رکھنا نوجوان نسل کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلائ، صحافی برادری، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں، سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں اور شہری آزادیوں پر قدغن کے خلاف مشترکہ آواز بلند کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں