مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کا لاک ڈاﺅن از خود ختم کرنے کا اعلان،ہفتہ سے تمام کاروباری مراکز اور دکانیں معمول کے مطابق کھلیں گی، کاشف حیدری
کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صوبائی ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ تاجر برادری مزید کسی بھی قسم کے لاک ڈاﺅن یا کاروباری بندش کی متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ مسلسل پابندیوں اور معاشی دباﺅ نے چھوٹے تاجروں، دکانداروں اور مزدور طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ہفتہ 16 مئی سے مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی ہدایت پر از خود لاک ڈاﺅن ختم کرتے ہوئے تمام کاروباری مراکز اور دکانیں معمول کے مطابق کھول دی جائیں گی۔ یہ بات انہوں نے مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے سیکرٹریٹ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مسلسل تعطل اور ملک گیر احتجاج کے باوجود حکمران طبقہ مکمل طور پر بے حسی کا شکار ہے اور تاجروں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ کاشف حیدری نے کہا کہ طویل لاک ڈاﺅن کے باعث تاجر برادری کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے جبکہ اس کے باوجود کوئی واضح ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت یہ اعداد و شمار جاری کرے کہ اتنے طویل لاک ڈاﺅن سے آخر کتنی بجلی کی بچت ہوئی اور تاجروں کے نقصانات کے مقابلے میں ملک کو کیا حقیقی فائدہ پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار بند کرنے سے معیشت نہیں چلتی بلکہ معیشت کا پہیہ صرف کاروباری سرگرمیوں کی بحالی، بازاروں کے کھلنے اور تجارت کے تسلسل سے چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ قریب ہے اور اس موقع پر کاروباری بندش مزید نقصان دہ ثابت ہوگی کیونکہ عوامی خریداری کا سیزن شروع ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر تاجروں کے تحفظات دور نہ کیے اور کاروباری اوقات کار کو معمول پر نہ لایا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔


