سوراب، حیات بلوچ کے قتل کیخلاف بی ایس او کا کیمپ ،نغاڑ روڈ پر مرکزی چوک نام سے منسوب
بی ایس او سوراب زون کی جانب سے شہید حیات بلوچ کے قتل کے خلاف اور اسے انصاف فراہمی مہم کے سلسلے میں احتجاجی کیمپ لگایا گیا. کیمپ میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے بی ایس او کے مرکزی چیئرمین نزیر بلوچ نے کہا کہ شہید حیات بلوچ کو جس بے دردی سے شہید کیا گیا اس کا بنیادی وجہ وہ نفرت کی زہنیت ہے جو بلوچ وسائل کے لوٹ مار کے لئے سیکیورٹی اداروں کے زریعے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے کے لئے بلوچستان میں قائم کی گئی ہے تاکہ بندوق و گولی کے زور پر بلوچ کو یقین دلایا جاسکے کہ بلوچ کو ریاستی شہری حقوق تو دور کی بات زندہ رہنے کا حق بھی حاصل نہیں شہید حیات بلوچ کو بے دردی سے جسطرح شہید کیا گیا اس پر کوئی انسانی حقوق پر یقین رکھنے والا یا انسان دوست طبقہ خاموش نہیں رہ سکتا لیکن الیکٹرانک میڈیا شہید حیات بلوچ کے واقعے پر مکمل طور پر خاموش رہی ہے جوکہ افسوس ناک یے دوسری جانب سپریم کورٹ سمیت وفاقی حکومت کے جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا گیا جبکہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے جانب سے جب انسانیت سوز واقعے پر انصاف کے لئے احتجاجی کیمپ کا اغاز کیا گیا تو بی ایس او کےخلاف انتقامی طرز عمل و کارکنوں کو زہنی ٹارچر کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکی یے بی ایس او کے پرامن سرگرمیوں کو بھی برداشت نہیں کی جارہی ہے بی ایس او کسی صورت اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی تمام تر منفی سازشوں کا مقابلہ سیاسی شعور کے زریعے کیا جائے گا بی ایس او ہر وقت قربانیوں کے لئے تیار ہے انہوں نے مزید کہا کہ بی ایس او ہمیشہ طاقت اور تشدد کے پالیسی کے بجائے پرامن سیاسی بحث و مباحثے کے پالیسی کو اہمیت دی یے کارکن کتاب و قلم کو حیات بلوچ کے انصاف کا زریعہ سمجھتے ہے انسانی حقوق کے تنظیموں اور عدلیہ کی جانب سے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر خاموشی ظلم کو مزید تقویت دینے کے مترادف ہے
اس موقعےپر سیاسی جماعتوں نوجوانوں کے مشاورت سے نغاڑ روڈ پر مرکزی چوک سوراب کو شہید حیات بلوچ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا گیا
اس موقع پر بی این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری امان اللہ مینگل، بی این پی عوامی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر میر علی اکبر گرگناڑی ، شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین منیر آزاد بلوچ ، ڈی ایف اے سابقہ چیئرمین شکیل زہری، بی ایس او سوراب زون کے صدر عامر بلوچ، جنرل سیکرٹری بصیر بلوچ ، ذرعی کالج کے یونٹ سیکریٹری کامران بلوچ ، یو او بی یونٹ کوئٹہ کے آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر وسیم بلوچ، عبداللہ بلوچ ، عبید بلوچ ، فیصل بلوچ ،بی این پی عوامی کے رہنما خلیل احمد میروانی، امان اللہ نیچاری، عبید اللہ میروانی، ڈاکٹر بشیر احمد میروانی، محمد عالم عیسی زئی، مولوی منیر احمد، نصیر احمد میروانی، ابوبکر، سمیت مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے اظہار یکجہتی کی وفود نے بی ایس او کے حیات بلوچ کو انصاف دو مہم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حیات بلوچ کے شہادت نے تمام بلوچستان کے تمام شہریوں کو عدم تحفظ کا شکار بنایا یے اس طرح سر عام نوجوان کو شہید کرکے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے اتحاد و یکجہتی کے زریعے ہی انسانی حقوق و قومی مفادات کا تحفظ کیا جاسکتا ہے حیات بلوچ کیس میں ملوث تمام ملزمان کو سزا دی جائے اور بلوچ کے حوالے سے نفرت کی زہنیت کو ختم کی جائے ۔


