ہنگلاج ماتا تیرتھ استھان کو سیاسی مقاصد کےلئے استعمال نہ کیا جائے، ترقیاتی کاموں پر تحفظات ہیں تو ہر سطح پر تحقیقات کے لیے تیار ہیں، دنیش کمار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹر دنیش کمار نے کہا ہے کہ ہنگلاج ماتا تیرتھ استھان نہ صرف ہندو مذہب کا مقدس ترین مقام ہے بلکہ بلوچستان اور پاکستان کا ایک قدیم، تاریخی اور قیمتی اثاثہ بھی ہے۔ یہ مقدس مقام پاکستان میں مذہبی آزادی، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک روشن مثال ہے، جہاں ہر سال لاکھوں ہندو یاتری مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات اور عبادات ادا کرتے ہیں۔ گزشتہ سات آٹھ سالوں کے دوران ہنگلاج ماتا تیرتھ استھان آنے والے یاتریوں کی سہولیات اور علاقے میں ترقیاتی کاموں کے لیے حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے ہنگلاج ماتا تیرتھ استھان کی ترقی اور یاتریوں کو سہولیات کی فراہمی مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات کا واضح ثبوت ہے۔ ان کی خصوصی دلچسپی اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں حکومت بلوچستان نے ہنگلاج ماتا تیرتھ استھان کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تمام اہم تجاویز ہنگلاج ماتا ویلفیئر اینڈ ڈویلپمنٹ سوسائٹی کی مشاورت سے طے کیں، جبکہ ان ترقیاتی کاموں کی نگرانی بھی سوسائٹی کے سپرد کی گئی۔ جہاں کہیں ٹھیکیداروں کی جانب سے کام کے معیار اور کوالٹی میں کمی سامنے آئی، کمیٹی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار سے کام دوبارہ کروایا۔انہوں نے گزشتہ روز ایک سینئر سیاستدان کی جانب سے ہنگلاج ماتا تیرتھ استھان کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کی گئی الزام تراشی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس مقدس مذہبی مقام اور یہاں ہونے والے ترقیاتی کاموں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ “جن سینئر سیاستدان نے ہنگلاج ماتا تیرتھ استھان کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے الزام تراشی کی ہے، میں انہیں کھلی دعوت دیتا ہوں کہ اگر ان کے پاس کسی بھی ترقیاتی کام کے معیار، کوالٹی، فنڈز کے استعمال یا کسی بے ضابطگی کے حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت یا تحفظات موجود ہیں تو وہ سامنے لائیں۔ میں بذات خود ان کے ساتھ موقع پر جا کر ایک ایک ترقیاتی کام کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہوں۔ اگر کہیں بے ضابطگی، ناقص کام یا قومی خزانے کے غلط استعمال کے شواہد سامنے آئے تو میں خود حکومت بلوچستان، نیب اور دیگر متعلقہ اداروں سے تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کروں گا۔” شفافیت اور احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے الزام تراشی کرکے حکومت بلوچستان کی جانب سے اقلیتی برادری کی فلاح، مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کیے گئے اقدامات کو متنازع بنانا اور ایک مقدس مذہبی مقام کو سیاست کی نذر کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ ہنگلاج ماتا تیرتھ استھان ہماری عقیدت کا مرکز ہونے کے ساتھ بلوچستان اور پاکستان کا قومی، مذہبی اور تاریخی اثاثہ ہے۔ اس مقدس مقام کی ترقی، تحفظ اور یاتریوں کی خدمت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اسے سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں