کوئٹہ:ادویات کے لیے رقم کی عدم ادائیگی،کینسر کے مریضوں کااحتجاجی مظاہرہ
کوئٹہ:کینسرسے متاثرہ مریضوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے 2سال سے مریضوں کو ادویات کی فراہمی کے لئے رقم کی ادائیگی نہ کرنے کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت سرور پانیزئی، نجم الدین کاکڑ ودیگر نے کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور ڈاکٹرز کی جانب سے دیئے گئے نسخے ہاتھوں میں اٹھارکھے تھے۔ اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ 2009میں صوبائی حکومت نے ادویہ ساز کمپنی کو ادویات کی مد میں ادائیگی کا معاہدہ کیا تھا جس کا سلسلہ 2018تک جاری رہے مگر موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے 2019اور 2020کے دوران ادویات کی مد میں رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے جس پر کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا مریضوں کا ادویات کی فراہمی بند کردی گئی ہے اس وقت بلوچستان میں 6سو کے قریب کینسر کے مریض موجود ہیں جن کی زندگی مہنگے ادویات کی عدم فراہمی کے باعث داؤ پر لگ چکی ہے، کینسر کے علاج کے لئے ہر مریض کو دن کو 4ٹیبلیٹس(گولیاں) لینے کی ضرورت ہوتی ہے ایک ٹیبلٹ کی قیمت 1140روپے ہے جو دن کے ساڑھے 4ہزار روپے بنتے ہیں جو کینسر کی مرض میں مبتلا غریب مریض اسے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں کی حکومتیں ادویات کی فراہمی کے لئے ادویہ سازی کمپنی کو باقاعدہ طور پر رقم کی ادائیگی کررہی ہے اور وہاں کے مریضوں کو مذکورہ ٹیبلٹس کی فراہمی کی جارہی ہے مگر بلوچستان حکومت کی جانب سے 2سال سے ادویہ ساز کمپنی کو رقم کی ادائیگی نہ ہونے کے باعث یہاں کے مریضوں کو ادویات کی فراہمی نہیں ہورہی۔ اس لئے صوبائی حکومت کینسر کے جان لیوا مرض میں مبتلا مریضوں کو ادویات کی فراہمی کے لئے ادویہ سازکمپنی کو دیگر صوبوں کی طرز پر فوری طور پر ادویات کی فراہمی کے لئے پے منٹ کرے تاکہ ادویہ ساز کمپنی کی جانب سے غریب مریضوں کو مہنگے ادویات فراہمی ممکن ہوسکے۔ قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔


