بلوچستان کے طلباء پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں،عالمگیر مندوخیل

پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی چیئرمین عالمگیر مندوخیل، ڈپٹی چیئرمین مزمل خان کاکڑ اور ممبر معصوم خان میرزئی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے تعلیمی ادارے ابتر صورتحال اور مشکلات سے دو چار ہیں. بلوچستان کے طلباء اور نوجوانوں پر تعلیم کی دروازے بند کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں. جبکہ حکومت کی غفلت اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے شعبہ تعلیم مزہد تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا ہے. بیان میں کہا گیا کہ سائنس کالج بلوچستان کا واحد ادارہ ہے جو صوبے کی غریب و مفلس عوام کی آخری امید ہے. مگر حکومتی غیرسنجیدگی کی وجہ سے یہ ادارہ بھی تباہی کا شکار ہے جہاں ٹیچنگ اور کلرک سٹاف کی سیکنڈ شفٹ کی تین سالہ تنخواہیں اب تک ادا نہیں کی جاچکی ہیں. بیان میں صوبائی حکومت سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ سائنس کالج اور دیگر تعلیمی اداروں کے معاشی مشکلات حال کیے وگرنہ دیگر تنظیموں کے ساتھ ملکر احتجاج کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں. علاوہ ازیں بیان میں سابق پرنسپل سائنس کالج پروفیسر رفیع اللہ کاکڑ کی ادارے کیلئے کاوشوں اور خدمات کو لائق تحسین قرار دیا گیا. جبکہ ادارے کے نئے سربراہ پرفیسر سراج کاکڑ کو پرنسپل سائنس کالج کا چارج سنبھالنے پر مبارکباد دی گئی اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ادارے کو فعال بنانے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں