میرابطور پشتون بلوچوں پر جانے کو حکمران خطرہ محسوس کرتے ہیں، انتظار کرنے والوں سے معذرت،محسن داوڑ
پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے سماجی رابطے کی سائٹ پرپوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہمیرے کوئٹہ کے سفر میں مختلف گروپس کے ساتھ بہت ساری ملاقاتیں طے تھیں جن میں جسٹس فار برمش ، چمن متاثرین ، حیات بلوچ اور دیگر شامل ہیں۔ لیکن مجھ پر ریاست کی طرف سے یہ باور کروایا گیا کہ اس ملک میں قوانین اور حقوق کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ہوائی اڈے سے مجھے زبردستی ایک ریسٹ ہاؤس لے جایا گیا کیوں کہ وہاں واپس آنے والی پروازیں نہیں تھیں انہوں نے پوری رات مجھے حراست میں رکھا۔ سیکیورٹی عہدیداروں کو اس حقیقت سے خطرہ محسوس ہوتا تھا کہ میں مظلوموں کے لئے بول رہا ہوں اور بطور ایک پشتون کہ بلوچ تک پہنچ رہا ہوں۔ Divide and Rule پر آج بھی ویسے ہی عمل ہورہا ہے جیسے 1947 سے پہلے ہورہا تھا کوئٹہ میں ان لوگوں سے معذرت خواہ ہوں جو میرا انتظار کر رہے تھے۔ میں ایک بار پھر حاضر ہوں اس چھوٹے سے ریسٹ ہاؤس جیل سے لے کر اس بڑی جیل تک جس نے تمام پاکستانیوں کو بند کر رکھا ہے۔ ہمیں اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔


