ملتان، مخصوص نشستوں پرفیس وصولی کے خلاف احتجاجی کیمپ کا پانچواں دن مکمل

بلوچ سٹوڈنٹس کونسل ملتان کی طرف سے مخصوص نشستوں پرفیس وصولی کے خلاف احتجاجی کیمپ کا پانچواں دن مکمل ہوا جس میں بلوچ طلبا نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے فیس وصولی کا فیصلہ حکومتی پالیسی کے برعکس ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے فیس وصولی کا فیصلہ واپس لے لیں
واضح رہے انجمن تاجران ملتان نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی جن سے بلوچ سٹوڈنٹس کونسل ملتان کے چئیرمین وقارنے بات کرتے ہوئے کہا کہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں انتظامیہ کی جانب سے بلوچ اور پشتون طلبا سے تعصب کیا جاتا ہے اور انہیں آخری رول نمبر دے کر اساتذہ کرام کی طرف سے تضحیک امیز رویہ کاسامنا گزشتہ کئی سالوں سے رہا ہے انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں شروع دن سے ایسے عناصر موجودہیں جو بلوچ اور پشتون طلبا کے یہاں آنےکے خلاف ہیں اور انہیں عناصر کی مہربانی سے پہلے یونیورسٹی انتظامیہ نے 2018 میں اوپن میرٹ پر سکالرشپ کا خاتمہ کیا اب انہوں نے 2020 سے کوٹے پرآئے ہوئے طلبا کےلیے فیس پالیسی لاگو کرنے کی پالیسی جاری کی ہے
انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وی سی ڈاکٹرمنصور کنڈی نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے آگے یونیورسٹی کا خسارہ ظاہرکیا جس کی وجہ سے وہ ان طلباکو مزید نہیں پڑھاسکتے جبکہ انہوں نے ہمارے ساتھ ہوئی ملاقات میں صوبائی و وفاقی حکومت کا مشترکہ فیصلہ بتایاہے جبکہ جامعہ کی طرف سے جاری کی گئی نوٹیفیکشن میں بھی یہی بات کی گئی انہوں نےبات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس سلسلے میں شروع دن سے اخباری بیانات کےذریعے تضادات ابھرے جبکہ اب انہوں نے نوٹیفیکشن جاری کرکے فیس پالیسی لاگو کرنے کی تصدیق کی جس کی وجہ سے ہم نے یہاں احتجاجی کیمپ لگایا جس کا آج چوتھادن ہے مگراب تک یونیورسٹی انتظامیہ اورحکومت کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ سٹوڈنٹس کونسل سمجھتی ہے کہ فیس وصولی پالیسی کی وجہ سے بلوچستان کےاکثر طلبا یہاں پڑھنے کی سکت نہیں رکھتے اور نہ ہی اس تعلیم دشمن پالیسی کی وجہ سے یہاں آئیں گے کیونکہ بلوچستان کے اکثر لوگ غریب و مفلوک الحال ہیں اس لیے !!یہ کیمپ لگایا تاکہ ہماری شنوائی ہو ۔۔یادرہے اس موقع پر تاجر نمائندوں نےبات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا یہاں آنے کا مقصد آپ سے اظہار یکجہتی کرنا نہیں بلکہ آپ کے مطالبات کی پرزور تائیدکرنے آئے ہیں یادرہے انہوں نے حکومت کی جانب سے بلوچستان اور فاٹا کے طلبا کے لیے مفت تعلیم کی سہولت ختم کرنے کی شدیدمذمت کی اور حکومت کی جانب سے شنوائی نہ ہونے پر بھی اظہار افسوس کیا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کے طلبا کے لیے سکالرشپ اور مختص نشستوں پر پڑھائی کا اہتمام کرے تاکہ پاکستان میں کم ہوتی شرح خواندگی کو بڑھایا جاسکے اور پاکستان ترقی کی راہوں پہ گامزن ہوسکے واضح رہے سوشل میڈیا پر عامر قومی نے بلوچ قوم سےا پیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ مخصوص نشستوں پر مفت تعلیم کی تحریک کا معاون بنیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہماری آواز کو اعلی حکام تک پہنچانے اپنا قومی کردار اداکریں

اپنا تبصرہ بھیجیں