دنیا پہ مسلط کی گئی جنگ امریکہ کے وجود اور اسکے بقا کی جنگ ہے ،مولانا شیرانی
ٹھل : اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے سابق سربراہ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ دنیا پہ مسلط کی گئی جنگ امریکہ کے وجود اور اسکے بقا کی جنگ ہے ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا شیرانی نے کہا کہ کسی بھی قبیلے کے سردار،نواب اور وڈیرے کے ڈیرے کی رونقیں تب زور پکڑتی ہیں جب قبائل کے درمیان جھگڑے زیادہ ہوں اگر قوم میں وحدت و اتفاق ہوگا تو انکے ڈیروں کی رونقیں باقی نہیں رہیں گیں۔ بین الاقوامی دنیا کے نواب(امریکہ)کا مزاج بھی یہی ہے کہ اپنے وجود اور بقا کے لئے دنیا میں جنگوں کو مسلط رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل میں جنگ کا محرک امریکہ ہے باقی شراکت دار ملکیں اور قومیں اجرتی قاتل کے طور پر جنگ میں شریک ہیں اور امریکہ کو اسکے مفاد اور اہداف میں مدد اور حوصلہ افزائی کرنے کے عیوض کرایہ لیتے ہیں اور ہم انکے مفادات کے لئے ایندھن بنتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لیگ آف نیشن کے ذریعے 1920ء میں مغربی اقوام نے دنیا کے تین معاملات کو بدل دیا کہ حکومت براہ راست کے بجائے بالواسطہ ہو اور ان تضادات کو ابھار کر قومیتوں کا نام دیا جائے تصادم کی شکل میں تقسیم کو آزادی کے نام سے متعارف کرایا جائے پھر وہاں یہ جاگیر جو کہ پرانے زمانے میں افراد کو دیئے جاتے تھے یہ جاگیر اداروں کو دیئے جائیں،مغربی قوم کا دنیا کے جس خطے پر اس وقت حاکمیت ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کی جاگیر ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جو ہم برائے نام کسی کو وزیر اعظم اور صدر کا نام دیتے ہیں یہ نام کے ہوتے ہیں اور کام کے منشی اور نائب ہوتے ہیں جو ہم سے ٹیکس وصول کرتے ہیں اور اپنے آقائوں کو پہنچا کر آتے ہیں،عمران خان کی سیاست کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ کھلاڑی سے سیاسی بنے ہیں میں انکی سیاست پہ بات کرنا ضروری نہیں سمجھتا۔


