حب، شاہینہ شاہین بلوچ کے قتل کیخلاف طلباء کی احتجاجی ریلی

حب(نمائندہ انتخاب )بلوچ ٹی وی اینکر شاہینہ شاہین بلوچ کے قتل اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف گزشتہ روز اسٹوڈنٹس کی جانب سے حب شہر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی میں طلباء و طالبات نے شرکت کی ریلی کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں شاہینہ بلوچ کو انصاف دو کے تحریر کردہ بینرز اور پلے کارڈز اٹھا کر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کا گشت کیا اور شاہینہ بلوچ کو انصاف دو کے نعرے بازی کی ریلی مین RCDشاہراہ سے ہو تی ہوئی لسبیلہ پریس کلب کے سامنے اختتام پذیر ہوئی جہاں پر ریلی کے شرکاء نے دھرنا دیکر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت بلوچستان سے شاہینہ بلوچ کے قتل میں ملوث میں ملزمان کو تربت چوک پر سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا اس موقع پر احتجاجی مظاہرین سے اسد اللہ قمبرانی ،سازین بلوچ ،نعیم بلوچ ،ذیشان زہری ،غلام رسول مری ،مصری خان بگٹی ،خان مری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستا ن میں ایک مرتبہ پھر سے قتل وغارت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے گزشتہ چند میں مکران میں خواتین و نوجوان کے قتل کا یہ تیسرا واقعہ ہے جس میں بے گناہ بلوچ نوجوان اور خواتین کو قتل و شہید کیا گیا انھوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں بلوچ ٹی وی اینکر شاہینہ بلوچ کو بھی بیدری سے قتل کیا گیا بعدازاں قتل کو واقعہ کو ذاتی قرار دینے کی کوشش کی گئی اور کہا جارہا ہے شاہینہ کو اسکے شوہر نے قتل کیا ہے اس حوالے سے تربت پولیس کو تحقیقات کرنا چاہئے کہ آیا کہ شاہینہ بلوچ کو کیوں قتل کیا گیا ہے انھوں نے کہاکہ مکران میں اس سے قبل ملک ناز ،حیات بلوچ کو بیدردی سے شہید کیا گیا اب شاہینہ بلوچ کو قتل کیا گیا انھوں نے کہاکہ شاہینہ بلوچ ایک تعلیم یافتہ خاتون کے ساتھ ساتھ ٹی وی اینکر تھی جو لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی جدوجہد کر رہی تھی لیکن اسے بھی قتل کردیا گیا مقررین نے مزید کہاکہ بلوچ سماج غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کیا جارہا ہے لیکن غیرت کے نام پر قتل کرنا بد ترین دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے شاہینہ بلوچ کو قتل تو کردیا گیا لیکن انھوں نے جو وہاں کے عوام میں سوچ پیدا کی اس کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا مقررین نے مزیدکہا کہ بلوچ قوم کو تعلیم سے دور رکھنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں کبھی نوجوانوں کو شہید کیا جاتا ہے تو کبھی انہیں بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے جس کی واضح مثال کوئٹہ میں تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ میں طلباء بیٹھے ہوئے ہیں حکومت ٹس سے مس نہیںہو رہا انھوں نے حکومت بلوچستان سے شاہینہ بلوچ کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے اور تربت چوک پر سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا اس موقع پر عارف بلوچ ،حبیب بلوچ سمیت دیگر طلباء و طالبات موجود تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں