کراچی: طالبہ کی ہلاکت پر انکوائری کمیٹی کی تشکیل

کراچی:کراچی کے علاقے عائشہ منزل پر واقع نجی اسکول میں طالبہ کی ہلاکت کے معاملے پر ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے جاری کیئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالستار میمن اور عامر انصاری انکوائری کمیٹی میں شامل ہیں۔دوسری جانب مذکورہ اسکول کے پرنسپل نے میڈیا کو بتایا کہ بچی ساڑھے 7 بجے سیڑھیوں سے گری، اس واقعے کی آیا نے اطلاع دی۔اسکول پرنسپل کے مطابق میں نے اور ٹیچرز نے بچی کو ہوش میں لانے کی کوشش کی اور فوری طور پر بچی کے والدین کو فون کر کے اطلاع دی، جس کے بعد بچی کے والد اور اساتذہ بچی کو نجی اسپتال لے کر پہنچے۔اسکول میں جاں بحق ہونے والی بچی اریبہ کے والد نے بتایا کہ میری بچی بالکل صحت مند تھی، جسے صبح 7 بجے اسکول کے لیے وین میں بٹھایا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ 8 بجے صبح اسکول سے کال آئی جس پر اسکول گیا تو اریبہ بے ہوشی کی حالت میں تھی۔اریبہ کے والد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسکول ٹیچر اور میں اریبہ کو اسپتال لے کر پہنچے، جہاں ڈاکٹرز نے کہا کہ بچی پہلے ہی انتقال کر چکی ہے۔واضح رہے کہ کورونا کی وبا کی بندش کے بعد اسکول کھلنے کے پہلے ہی دن کراچی کے نجی اسکول میں طالبہ کے سیڑھیوں سے گر کر جاں بحق ہونے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں عائشہ منزل پر واقع نجی اسکول کی نویں جماعت کی طالبہ اریبہ اسکول کی سیڑھیوں سے گر کرجاں بحق ہو گئی۔جاں بحق ہونے والی طالبہ کے اہلِ خانہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ اسکول کی انتظامیہ کی کوتاہی سے 14 سالہ اریبہ آصف جان سے چلی گئی۔اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ اسکول کی انتظامیہ نہ ہی بچی کو بروقت اسپتال لے کر گئی اور نہ ہی گھر والوں کو فوری طور پر اس حادثے کی اطلاع دی۔ادھر وزیرِ تعلیم سندھ نے نجی اسکول میں بچی کی ہلاکت کا نوٹس لے لیا، انہوں نے ڈی جی پرائیویٹ اسکولز سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی نے ہدایت کی ہے کہ تحقیقات کی جائے کہ سانحہ کیسے ہوا؟ واقعے کے بعد اسکول انتظامیہ نے بچی کواسپتال کیوں نہیں پہنچایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں