سوشل میڈیا ، ملازم پر پابندی کا آرڈر کس قانون کے تحت جاری کیا گیا ہے،بلوچستان ہائیکورٹ
کوئٹہ : چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کے حقوق تقرریوں اور تبادلوں کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے انیتا تراب کیس میں واضح فیصلہ دے چکی ہے اگر صوبے میں کسی افیسر کو یہ لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے برعکس ان کو قبل ازوقت تبدیل کیاگیا ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے عدالت کے پاس سوموٹو کا اختیار نہیں اس لئے اکثر معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتیحکومت بتائے کہ ملازمین کو سوشل میڈیا سے دور رہنے کا حکم کس قانون کے تحت دیاگیا ہے بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ کا کونسا سیکشن سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا کی استعمال سے منع کرتا ہے اس سلسلے میں چیف سیکرٹری بلوچستان ودیگر کو نوٹسز جاری کیے جاتے ہیں کہ وہ اگلی سماعت پر اس بارے میں جواب جمع کرائیںیہ حکم جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے بایزید خان خروٹی برخلاف چیف سیکرٹری بلوچستان ودیگر کے آئینی درخواست پر سماعت کے دوران دیا درخواست گزار بایزید خان خرورٹی نے کہاکہ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے ہفتہ وار تعطیل کے باجود مورخہ 29 اگست2020 کو ایک تحریری نوٹیفکیشن نمبرNo,SGA(Admn)IX(23)/2020کے ذریعے حکومت بلوچستان کے لگ بھگ تین لاکھ ملازمین کو حکم جاری کیا ہے۔کہ وہ تین یوم کے اندر ان تمام واٹس ایپ گروپس اور دیگر سوشل میڈیا گروپس سے فورا الگ ہوں جائیں جو حکومت کی بد انتظامی، کرپشن اور حکومت کی نا اہلی کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ورنہ بیڈا کے قانون کے تحت کاروائی ہو گی۔ یہ نوٹیفیکیشن حال ہی میں حکومت کے اپنے بنائے ہوئے معلومات تک رسائی کے بل سے بھی متصادم ہے اور 1973 کے آئین میں فردِ واحد کی پرائیویسی کو ناقابلِ خلاف ورزی حق قرار دیا گیا ہے جس میں شہریوں کی عزتِ نفس، ان کی پرائیویسی اور زندگی کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ کوئی بھی شخص خواہ وہ ملازم ہی کیوں نا ہو کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔ جبکہ آئین پاکستان معلومات تک رسائی کا حق ہر شہری کو بلا امتیاز دیتا ہے۔ جبکہ یہ نوٹیفکیشن شخصی آزادی پر آئین میں موجود قوانین سے متصادم ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکلز کی 280 میں سے پہلے 40 آرٹیکلز میں عوام کے حقوق، اصول حکمت عملی یعنی حکومتی ذمہ داریوں کا ذکر ہے آئین کا آرٹیکل نمبر 4 ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اسکے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔ خصوصا کوئی ایسی کاروائی نہ کی جائے جو کسی شخص کی جان، آزادی، جسم، شہرت یا املاک کے لئے مضر ہو، سوائے جبکہ قانون اسکی اجازت دے۔ کسی شخص کے کوئی ایسا کام کرنے کی ممانعت یا مزاحمت نہ ہوگی جو قانونا ممنوع نہ ہو اور کسی شخص کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جس کا کرنا اسکے لئے قانونا ضروری نہ ہو۔ اور موبائل فون تمام ملازمین کی نجی املاک میں آتا ہے اور یہ نوٹیفیکیشن آئین کا آرٹیکل نمبر 4 سے متصادم ہیپی ایل ڈی نمبر 2017/31 میں سندھ ہائی کورٹ قرار دے چکی ہے کہ بنیادی حقوق بنیادی حقوق کونے تو عام معنوں میں لیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسکی تشریح عموی الفاظ میں کی جاسکتی ہے۔ جبکہ پی ایل ڈی 2014/132 میں پشاور ہائی کورٹ حکم دے چکی ہے کہ دستور کے دو آرٹیکلز کے درمیان عدم یکسانیت کی صورت میں صرف مجلس شوری کوا سے مل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔درخواست گزار نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ آرٹیکل 6کے شق نمبر1کی روح سے کوئی شخص جو شق 1 میں مذکورہ افعال میں مدد دے گا یامعاونت کرے گا یا شریک ہوگا اسی طرح سنگین غداری کا مجرم ہوگاکا ارتکاب کرچکے ہیں جن کی سزا ارٹیکل 6 واضح طور پر درج ہے۔اس لئے ان کیخلاف آئین کے برخلاف اقدام اٹھانے پر مقدمات درج ہونے چاہئے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا کو بھی حکومتی سرپرستی میں قانونی دھارے میں لایا جائے اور ان کی ڈی جی پی آر کے پاس رجسٹریشن ہو اس سے وابستہ افراد کو ٹریننگ دی جائے اور اس کے لئے اسپیشل جگہ مقرر کی جائے تاکہ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو ٹریننگ دی جائے تاکہ وہ معاشرے میں اپنا بہتر کردار ادا کر سکیں سوشل میڈیا پر پابندی کا حکومت کا یہ نوٹیفیکیشن مسائل کا حل نہیں ہے ہم مانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کام کرنے والے نوجوانوں کی ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ملازم پر پابندی کا آرڈر کس قانون کے تحت کیا گیا ہے کیا بیڈا ایکٹ جس کا ذکر نوٹیفیکیشن میں کیا گیا ہے اس میں سوشل میڈیا کے حوالے سے کوئی شق موجود ہے درخواست سماعت کیلئے منظور کی جاتی ہے چیف سیکرٹری بلوچستان، سکریڑی ایس اینڈ جی اے ڈی، و دیگر کو نوٹسز جاری کیے جاتے ہیں کہ وہ اگلی سماعت پر عدالت میں پیش ہو کر اپنا جواب جمع کرائیں۔


