انسداد دہشتگردی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ22 ستمبر تک موخر کردیا

کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 سال سے زیر سماعت سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ22 ستمبر تک موخر کردیاہے۔تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں جمعرات کوسانحہ بلدیہ کیس کی سماعت ہوئی ، ملزمان رحمان بولا اور زبیر چریا کو جیل سے پیش کیا گیا جبکہ رئوف صدیقی، عمر حسن قادری، ڈاکٹرعبدالستار سمیت دیگر ملزمان پیش ہوئے، رینجرز پراسیکیوٹر اورملزمان کے وکلا بھی عدالت میں موجود تھے۔عدالت نے استفسار کیا کیاعدالت لواحقین کے لیے ملزمان پرجرمانہ عائد کرسکتی ہے ؟ جس پر ملزمان کے وکلا نے کہاکہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر ورثا کو جرمانہ دیا جاچکا ہے، دی گئی رقم دیت نہیں معاوضے کی تھی ، معاوضہ انشورنس کمپنی اور حکومت کی جانب سے ادا ہوا، عدالت چاہے تو ملزمان پر جرمانہ عائد کرسکتی ہے۔پراسیکیوٹررینجرز نے عدالت کو بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کی جانب سے معاوضہ انسانی ہمدردی کی بنیادپردیاگیا ، اے ٹی سی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پرعمل کی پابند نہیں۔عدالت نے سوال کیا عدالت کوبتایاجائے کتنی لاشوں کاپوسٹ مارٹم ہوا؟ تفتیشی افسر نے بتایا 259لاشوں کاپوسٹ مارٹم کیا گیا تھا، کچھ انسانی عضاالگ تھے ان کا بھی پوسٹ مارٹم کیا گیا۔دوران سماعت وکلا کے دلائل مکمل عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور کہا اے ٹی سی کی جانب سے سانحہ بلدیہ کا فیصلہ 22 ستمبر کو سنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں