سندھ و بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کرنے کے آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں نیشنل پارٹی کے زیراہتمام کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ
کوئٹہ ۔نیشنل پارٹی و بی ایس او پجار کے زیر اہتمام پارٹی کے مرکزی کال کے مطابق سندھ و بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کرنے کے لیے صدارتی آرڈیننس کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ۔
احتجاجی مظاہرے سے نیشنل پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری اسلم بلوچ،ممبرمرکزی کمیٹی و ضلع صدر کوئٹہ حاجی عطاء محمد بنگلزئی چیرمین بی ایس او پجار زبیر بلوچ ممبر مرکزی کمیٹی میران بلوچ صوبائی ترجمان علی احمد لانگو صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی عبدالصمد بلوچ ممبر ورکنگ کیمٹی کلثوم نیاز بلوچ و دیگر نے خطاب کیا۔
مظاہرین نے قبضہ گیر آرڈیننس کے خلاف پلے کارڈز اٹھانے کے ساتھ شدید نعرے بازی کی۔
احتجاجی مظاہرے سے قاہدین نے سندھ و بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کرنے لیے غیر جمہوری و غیر آئینی آرڈیننس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈڈ حکومت آمریت کی طرز حکمرانی پر گامزن رہتے ہوئے آئین و قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔
آئین کا آرٹیکل 172 گیس وتیل سمیت قومی وسائل کو صوبوں کی ملکیت قرار دیتی ہے اور ان کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔سلیکٹڈڈ حکومت نے آئین و قانون کی حکمرانی کا خاتمہ اور پارلیمنٹ کو بھی توقیر کردیا ہے۔ایوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری بنادیا گیا۔مقررین نے کہا کہ سندھ و بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کرنے کی آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف بھر پور جدوجہد کیا جائے گا۔70
سالوں سے اسلام آباد کے حکمران بلوچ قوم و بلوچستان کی قومی وسائل کو لوٹ رہے ہیں۔اور بلوچ قوم کو ان پر دسترس سے دور رکھا گیا ہے۔سیندک ریکوڈک اور سوئی گیس سے بلوچستان مستفید تو نہیں ہوا لیکن اسلام آباد کا مقتدرہ سرمایہ دار بنا۔بلوچ قوم پر کشت وخون کی پالیسی اپنائی گئی ہے اور خود کےلیے ترقی و خوشحالی۔مقررین نے کہا اگر ملک کو حقیقی وفاقی ریاست بنانا ہے تو قومیتوں کے حقوق کو غصب کرنے کی منفی پالیسی کا خاتمہ اور ملک کو جمہوریت کے حقیقی روح کو پروان چڑھانا ہوگا۔
ظلم جبر اور ناانصافی نے پہلے ہی بنگلادیش کو جنم دیا ہے۔مقررین نے کہا کہ غیر جمہوری انداز سے حکومت میں آنے والوں نے سیاسی انتقام کی حد کردی ہے۔سیاسی مخالفین کو جیلوں بوگس مقدمات اور اب غدار قرار دیا جارہا ہے۔
آئین کو روندنے والے اور ہزاروں پاکستانیوں کو دیشت گردی کی بھینٹ چڑھانے اور بلوچ قوم پر فوجی آپریشن کرنے والے جنرل مشرف کو آئین کے مطابق غدار قرار دیا جاتا ہے تو اس کے حق میں آسمان اٹھایا جاتا ہے۔
لیکن سیاسی رہنماؤں کو طوفان بدتمیزی کا۔نشانہ بنایا جاتاہے۔۔مقررین نے کہا کہ پی ڈی ایم کا مقصد پاکستان میں حقیقی فلاحی ریاست کا قیام ہے جہاں قومی برابری قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی انصاف پر مبنی عدلیہ آزاد میڈیا اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کا قیام ہے۔
پی ڈی ایم نے حکمرانوں کے نیندیں حرام کردیں ہے۔سلیکٹڈڈ وزراء و مشیران کی موج ظفر موج حواس باختگی میں ہر گنٹھہ پریس بریفنگ کرتے ہیں۔مقررین نے کہا کہ 25 اکتوبر کوئٹہ کا جلسہ ملک و بالخصوص بلوچستان میں غیر جمہوری نمائندوں اور الیکشن کو ہائی جیک کرنے والوں کے خلاف سنگین میل ثابت ہوگا۔


