اب ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں بچا، جو غدار نہیں ہے، سید خورشید شاہ
سکھر:پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اب ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں بچا، جو غدار نہیں ہے، ایسی روایت پہلے کبھی نہیں تھی کہ سب کو غدار کہا جائے،زیر اعظم ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، ٹائیگر فورس سے مہنگائی پر کام کروانا قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ کوئی بھی سرکاری کام پرائیوٹ سیکٹر سے نہیں کروایا جاتا۔پیرکواحتساب عدالت سکھر میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سماعت24اکتوبر تک ملتوی کردی ۔24 اکتوبر کو خورشید شاہ کے خلاف فرد جرم عائد کی جائے گی۔خورشیدشاہ سمیت دیگرعدالت میں پیش ہوئے ۔ پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشیدشاہ نے کہاکہ ایک سال تک مجھے گرفتار کر کے رکھا، لیکن میری کوئی کرپشن سامنے نہیں لاسکے۔ توڑ مروڑ کر میرے اثاثہ جات بنائے گئے۔ میں اسٹوڈنٹس سیاست سے اپنا کاروبار کر رہا ہوں۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں جبکہ ٹائیگر فورس سے مہنگائی پر کام کروانا قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ کوئی بھی سرکاری کام پرائیوٹ سیکٹر سے نہیں کروایا جاتا۔انہوں نے کہا کہ ٹائیگر فورس کی ایسی مثال ہے کہ گوشت کی چوکیداری پر بلے کو بٹھایا جائے۔ملک میں مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ سراج الحق کہتے ہیں قیمتیں 2018 تک لے آئیں تو بھی اچھا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ پیٹرول کی قیمتیں دنیا میں کم اور ہمارے ملک میں بڑھ رہی ہیں۔ ملک کے آئین کے تحت مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ اب اپوزیشن پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اپوزیشن کا کام ہے مسائل کی نشاندہی کرنا اور عوام کی ترجمانی کرنا ہے۔ عوام اس وقت پاگل ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ مخالفین پر جھوٹے مقدمات بنوانا، اس حکومت کا پرانہ طرز عمل ہے۔ بشیر میمن نے جب جھوٹے مقدمات سے انکار کیا تو اسے جبری چھٹی پر روانہ کیا گیا۔ اب کوئی سیاسی رہنما نہیں بچا جس کو انہوں نے غدار قرار نہیں دیا ہو۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر دہشتگردی کا مقدمہ درج کرواکر مودی کو فائدہ دیا گیا۔پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ ملک میں ایسی روایت پہلے کبھی نہیں تھی کہ سب کو غدار کہا جائے۔ اب ٹی وی کھولو تو دو تین لوگوں کے ترجمان سب کو گالیاں دیتے نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے واقعات سب کے لیے چیلنج ہیں اور سب اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں کیونکہ دشمن ہمارے سر پر بیٹھا ہے اور وہ کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان ترقی کرے۔


