بی پی ایل اے کو جھوٹ و گھمنڈ کی سیاست سے پاک کرنا ضروری ہے،یکجہتی پینل
کوئٹہ : یکجہتی پینل کے نامزد صدر پروفیسر حمید خان اور جنرل سیکریٹری طارق بلوچ نے اپنی حالیہ انتخابی مہم کے دوران کہا ہے کہ بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کو بلوچستان بھر کے تمام کالجز کی واحد نمائندہ تنظیم سمجھتے ہیں اور اس کی عزت اور وقار پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے قائل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالج اساتذہ کے لیے موجودہ دور اہم ترین حیثیت رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود گوناگوں مسائل کی وجہ سے معاشرہ کا یہ معزز طبقہ ذاتی و پیشہ ورانہ زندگی میں مشکلات سے دوچار ہیں۔ گذشتہ دنوں بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن یکجہتی پینل کے وفود نے گورنمنٹ ڈگری کالج گوادرانٹر کالج پسنی گورنمنٹ کالج حب، گورنمنٹ بوائز کالج وندر، گورنمنٹ کالج بیلہ، گورنمنٹ ڈگری کالج خضدار, گورنمنٹ کالج وڈھ اور گورنمنٹ بوائز سوراب کا دورہ نامزد صدر پروفیسر حمید خان ، نامزد جنرل سیکریٹری پروفیسرطارق بلوچ اور پروفیسر کلیم تارن نے کیا جبکہ پروفیسر عبدالرازق الفت ، ڈاکٹر نقیب اللہ، پروفیسر امجد حسین ، پروفیسر یوسف کاکڑ اور پروفیسر شیر زمان نے گورنمنٹ ڈگری کالج چمن اور گورنمنٹ انٹر کالج عبدل رحمن زئی کا دورہ کے دورے کئے اور وہاں اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے والے کالج اساتذہ سے انتخابی امور اور بلوچستان کی تعلیمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور یکجہتی پینل کے اغراض و مقاصد پیش کئے ۔ اس موقع پر یکجہتی پینل کے نمائندوں نے کہا موجودہ دور میں بی پی ایل اے کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی اور جھوٹ اور گھمنڈ پر مبنی سے سیاست پاک کرنا ضروری ہے جبکہ اس واحد نمائندہ تنظیم کو برادری کے وسیع تر مفاد کے لیے تمام تر آپسی فرق سے آزاد ہوکر فعال کرنا بھی اہم ترین مقصد ہے۔ نامزد جنرل سیکریٹری پروفیسر طارق بلوچ نے اپنے مختلف کالجوں کے دوران کالج پروفیسروں سے اپنے خطاب میں کہا برادری کا اعتماد اور خلوص شامل حال رہا تو یکجہتی پینل اپنی ترجیحات کے مطابق حکومت اور کالج ملازمین کے درمیان بہترین رابطوں سے اپنا تاریخی کردار ادا کرے گا اور کالج اساتذہ کے جائز اور دیرنہ مطالبات کو حل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ نااہل کابینہ اور اس سے وابستہ چند اشخاص کے بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی کارکردگی پر بات کرنا ہمارا جمہوری حق ہے انہوں نے کہا چند ناعاقبت اندیش لوگوں کی وجہ سے آج کالج برادری کے لیے نت نئے مسائل پیدا کردیے گئے ہیں جبکہ حیرت ہوتی ہے کہ وہیں عناصر ایک بار اپنے بلند بانگ دعووں کے ساتھ اسٹاف رومز میں ہر موضوع پر نئی نئی کہانیاں سناتے نظر آتے ہیں۔ پروفیسر رازق الفت اور وفد میں شامل پروفیسروں نے اپنے حالیہ دوروں میں اتحاد اور باہمی نظم و ضبط پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ یکجہتی پینل کا قیام وقت کی ضرورت تھا حالانکہ ووٹرز ممبرشپ رجسٹریشن ، نئے آئین کی شکل میں خلاف عقل اقدات کے علاوہ کالج اسٹاف رومز میں جاری بے چینی کی موجودگی میں قلیل ترین وقت میں پینل کی تشکیل کی گئی اور شبانہ روز بنیادوں پر بہتری و علمی فضا کے لیے محنت کی جارہی ہے۔ یکجہتی پینل کے اخباری بیان میں ہونے والے انتخابات کو اہم قرار دیتے ہوئے کالج اساتذہ کو اپنا جمہوری حق بھرپور انداز میں استعمال کرنے پر زور دیا ہے۔


