کرونا وائرس اور عجز انسانیت عزیز احمد گورگیج

کرونا وائرس کی وجہ سے دنیائے انسانیت میں مچی کھلبلی اور اس کے سامنے اقوام عالم کی عجز کو دیکھ کر قلم نے بے ساختہ اس موضوع پر لکھنے کی ٹھان لی، ہر طرف افراتفری ہر گوشے میں ہلچل،بصد تاسف یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ صدیوں پہلے جو مسلمان ایسی حالات میں صبر و تحمل اور انابت الی اللہ کے دامن گیر تھے اور جس نبی کی تعلیمات مصائب و آلام میں رجوع الی اللہ کے درس و اسباق سے لبریز ہیں آج ہم انہی کا گلہ گھونٹ رہے ہیں،اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں جابجا بنی نوع انسان کو تنبیہ کرکے فرماتے ہیں کہ ندائے خدا ہی میں تمام پریشانیوں کا حل ہے جسں طرح حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ گویا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو یاد کرو جب اسے تکلیف پہنچی تو اس نے اپنے رب کو پکارا اور ایک آج کا زمانہ و مغفل انسان ہے جو تعلیمات قرآنی کو پس پشت ڈال کر غیروں کے طریق اپنانے پر بے لگام تلا ہوا ہے،جس قرآن نے ہمیں یہ نظریہ و عقیدہ دیا کہکہہ دیجئے جو کچھ اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے اس کے سوا ہم پر کوئی مصیبت نہیں پڑے گی۔ وہی ہمارا کارساز ہے اور اللہ ہی پر ایمانداروں کو بھروسہ بھی کرنا چاہیے۔اور یاد رہے جب سرزمین خداوندی پر بنی نوع انسان وحشت و فحاشی کے گھوڑے پر سوار ہو کر تعلیماتِ قرآنی کی دھجیاں اڑائیں اور خدائے متعال کی نشانیوں کو جھٹلانے پر بضد ہو تو عذاب خداوندی مختلف اشکال میں ظہور پذیر ہوتا ہے،جیسے اللہ تعالیٰ گویا ہے اور جو ہماری آیتوں کے رد کرنے میں کوشش کرتے پھرتے ہیں، ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ جو انسان کل تک اپنی آزادی کے نغمے گنگناتے تھکنے کا نام نہیں لیتا تھا آج وہی انسان ایک مائکرو آرگنزم کے خوف و دہشت کے شکنجوں میں جکڑا ہوانظر آرہا ہے،بنت آدم جو چند ایام قبل آزادی اور میری جسم میری مرضی کے نعرے فضاء میں بلند کرہی تھی اب وہی سربخم ہوکر قید دہشت کی اسیر بنتی دکھائی دے رہی ہے آخر یہ انسانیت کا قافلہء مغفلین کیونکر سر کی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھ کر یقین کے پلکیں نہیں جپکتا اور اپنی دنیا جہل میں حقیقت کو رد پہ رد کرتا چلا جائے گا۔۔لیکن۔۔حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے۔جی ہاں جس حقیقت کی طرف میراقلم اشارہ کررہاہے وہ خدا کی زمین پر خدا کے قائم کردہ اٹل احکامات ہیں جنہیں انسان پاوں تلے روند کر عذاب خداوندی کو چیلنج کررہآہے اور آج اسی کے پاداش میں مختلف بیماریوں اور دیگر مصائب کا شکار ہورہا ہے۔حدیث مبارکہ ہے کہ جب سرزمین پر احکامات خداوندی کی پامالی اور فحاشی عام ہوگی تو ایسے بیماریاں پیدا ہونگی جن کے متعلق نہ تم نے سنا ہے اور نہ ہی تمہارے آباو اجداد نے آج وہی دور آچکا ہے اور عصرحاضر اس حدیث کا مصداق بن چکاہیآج ایک ادنیٰ سا وائرس جس کی نظر عام سے دید بھی ممکن نہیں عمر محض دس سے بارہ گھنٹے 27 سینٹی گریڈ پر ہے پوری دنیا کو اور دور جدید کی ان ٹیکنالوجی کوفیل کرکے بے بس کردیا ہیں اور 162 ممالک میں اپنے پنجے گاڑتے ہوئے 8500 لوگوں کو ابدی نیند سلا کر پوری دنیا میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگوں کو متاثر کرچکا ہے اور یہ فگر گھنٹوں کے حساب سے زیادہ ہورہا ہے مگر کم نہیں۔ آج اللہ پاک کا نازل کردہ عذاب جو عالمی وباء بن چکا ہیں پورے دنیا میں اپنی ایسی دھاک و دہشت بٹھا چکا ہے کہ ایئرپورٹ ویران۔ہوٹل ویران۔ کسینو۔جوئے خانے۔ اسٹیڈیمز۔ درگاہیں۔ سینما گھر۔ تعلیمی ادارے۔ فیکٹریاں۔ شاپنگ مال۔ پارکس وغیرہ۔ شراب کے اڈے اور دنیا بھر کے گنجان آباد شہروں کو ویران کرکے رکھ دیا۔یہ وباء سینکڑوں مسلم ممالک سمیت پاکستان میں بھی پھیلتی جارہی ہے اور اس ملک بے پرسان میں اقدامات زیرو فیصد ہیں مزید ہزاروں اموات کا خدشہ ہے تو مسلم امہ جو غفلت کی نیند میں سورہی ہے آج بھی موقع ہے کہ رجوع اللہ کرکے اپنے خالق کی جانب سے ناراضگی کے باعث بیجنے والے قہر کو دور کرنے کیلئے جھولیاں پھیلائیں انابت الی اللہ کے دامن گیر ہوجائے اور احتیاطی تدابیر جن کے متعلق کئی احادیث منقول بھی ہیں عمل پیرا ہوکر امید دامن باندھے کہ اللہ پاک ہی کی ذات اقدس ہے جو اس عالمی وباء “کرونا وائرس” کو ختم کرکے عالم انسانیت کو نجات دلائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں