صدر مملکت جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کو عدالت میں لانے کے مجرم ہیں،مولانا فضل الرحمن

قلات:جمعیت علما اسلام کے سربراہ و صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے زیر اہتمام آج کوئٹہ میں اس سلیکٹڈ نا اہل اور ناجائز حکومت کے خلاف جلسہ عام ہوگا اس کے خلاف پوری قوم میں بیداری بڑھ رہی ہے اور آج ہر عام آدمی یہ محسوس کررہا ہیکہ اس کی چیخ و پکار آسمان کو چھو رہی ہے۔ ووٹ عوام کا حق اور انکی امانت ہے اب ہم نے فیصلہ کیا ہیکہ جو امانت قوم سے چھینی گئی ہے وہ امانت ہم قوم کو واپس دلا کر رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ قلات کے موقع پر جامعہ شاہ ولی اللہ کوئنگ میں پارٹی کارکنوں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری،صوبائی جنرل سیکرٹری رکن قومی اسمبلی سید آغا محمود شاہ، مولانا راشد سومرو، مولانا عبدالعزیز قریشی،منظور آفریدی، صاحبزادہ مولانا مفتی طیب حیدری، ضلعی ترجمان حافظ قاسم لہڑی، مولانا عبدالصبور مینگل، حکیم طاہر مجید لہڑی، مولوی عبدالرحمان ساسولی، مولانا عبدالعلیم، مولوی نظام الدین نیچاری، مفتی ابوبکر سمیت دیگر عہدیداران و کارکنان موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ کل سپریم کورٹ کا جو فیصلہ جسٹس فائز عیسی کے ریفرنس کے حوالے سے آیا عدالت عظمی نے اس ریفرنس کو خارج کر دیا ہے جس میں واضح طور پر کہا ہے کہ صدر مملکت اس ریفرنس کو عدالت میں لانے کی مجرم ہے اس کے بعد اسے حق نہیں بنتا کہ وہ صدر مملکت کی منصب پر مزید فائز رہے اسے کوئی اخلاقی جواز اس وقت موجود نہیں ہے۔ اور ظاہر ہیکہ اس ریفرنس کی منظوری کیبنٹ سے لی گئی ہے۔ جعلی کیبنٹ اور جعلی وزیراعظم کی موجودگی میں وہ سب مجرم ٹھہراتے ہیں اور اس کا مزید ملک پر مسلط ہونے کا آئینی جواز پہلے نہیں تھا اب اخلاقی جواز بھی باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اس دعوے کی بھی تصدیق ہوئی ہے کہ نیب انتقامی سیاست کرتا ہے اس پر بھی عدالتی واضح طور پر فیصلہ آیا ہے وہ انتقامی کاروائی کرتا ہے وہ انصاف کی بنیاد پر احتساب نہیں کر رہا۔ وہ صرف حزب اختلاف کے خلاف استعمال ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم ایسی صورتحال میں اپنی جدوجہد کو ایک جائز اور آئینی جدوجہد کہتے ہیں جو کہ قانون کے دائرے میں اپنی جدوجہد کو بر حق سمجھتے ہیں اور اس موجودہ حکمرانوں کو اور ان کی طرز حکمرانی کو ناجائز اور باطل قرار دیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں جلسہ کرنا ہے سیکورٹی اور یہ چیزیں حکومت کی ذمہ داری ہے یا وہ پھر اعلان کردے کہ ہم بے بس ہے تو ہم خود اس کی ذمہ داری لینے کو تیار ہیں دھمکیاں دے کر ڈرا دھمکا کر یہ خیال کرنا کہ ہمارا یہ سیلاب تھم جائے گا اور یہ طوفان رک جائے گا مگر جی رکھے گا نہیں اور بڑھتا جائے گا اور حکومت یا انکی اداروں نے اگر یہ بات کی ہے تو انشااللہ کچھ بھی نہیں ہوگا لیکن وہ پھر بھی سمجھ لیں کہ وہ عوام کے ساتھ براہ راست جنگ کیلئے آمادہ ہے تو ہماری طرف سے تو پہلے ہی طبل جنگ بج چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کا حوالہ دے کر ایسی باتیں کر رہے ہیں انہوں نے تو تردید کر دی ہے کہ حکومت اپوزیشن کو ہمارا نام لیکر اس طرح بلیک میل نہیں کرے۔ انہوں نے کہا کہ ستر سال اتنا گند ملک میں نہیں پڑا تھا جو انہوں نے دو سالوں میں ڈال دیا ہے اس گند کو صاف کرنے کے لئے بہت محنت کی ضرورت ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے جیل تو ایسی بات نہیں ہے میاں محمد نواز شریف نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا ہے تین بار پاکستان کے وزیراعظم رہ کر بار بار عدالتوں میں پیش ہوئے ہیں عدالتوں اور جیلوں سے بھاگنے والے اور عدالت میں پیش ہو کر سامنا کرنے والے بھی معلوم ہے۔ ان گیدڑ بھبکیوں سے اپوزیشن کو یا اسکی قیادت کو ڈرایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری ذلت آمیز کارروائی ہے۔اس کارروائی کو کامیڈی کہنے والے وزیراعظم سمیت پوری حکومت ہی کامیڈی ہے اس دن پوری پولیس نے چھٹی لی کہ ہم کام نہیں کرسکتے۔ یہ بھی کامیڈی ہے کہ آئی جی پولیس اور اے آئی جی کو لے جا کر چار سے پانچ گھنٹے تک اپنے دفتر میں یرغمال بنائے رکھے اور جبرا ان سے ایف آئی آر کٹوایا اور ایسا شخص ایف آئی آر کا مدعی ہے جو کہ تحریک انصاف کا رکن ہے دوسرا پہلے سے اشتہاری ملزم اور مفرور ہے ان وقت آفیسران کی طویل ہوئی ہے یہ کامیڈی کا لفظ درحقیقت ان کی توہین ہے یہ اپنے اداروں کی توہین کی ہے اپنے پولیس اداروں کی توہین کی ہے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے مستقل اتحاد کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا لیکن کچھ اتحاد تحریک کیلئے کچھ اتحاد انتخابات کیلئے ہوتے ہیں یہ ہماری تحریک جو چل رہی ہے۔پی ڈی ایم کے جلسوں سیجعلی حکومت کے اوسان خطا ہوگئے ہیں۔ انشا اللہ اس تحریک سے ملک پر مسلط حکمرانوں سے عوام کو نجات دلا کر دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ جلسہ تاریخی ہوگا جوکہ حکومت کے خاتمے کیلئے بڑا اور کامیاب جلسہ ہوگا۔دریں ثناء جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اورقائد پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن نے کہاہے جمعیت کو جمہوریت کی بحالی کے تحریک میں سربراہی دی گئی ہے وہ اللہ تعالی کا ہمارے اوپر ایک بہت بڑی احسان ہے ہمیں اس کاشکرگزارہوناچاہیے ان خیالات کااظہار انہوں نے جامعہ مالکیہ میں 25 اکتوبرکے جلسے کے حوالے سے منعقداجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیاقبل ازیں مولانافضل الرحمن نے منگچرمیں جمعیت کے رہنما سردارزادہ میرسعید احمدلانگو، سردارزادہ میر حاجی نوراحمد لانگوکے بڑے بھائی سردارزادہ میرعبدالقیوم لانگو کے وفات پر ان سے تعزیت اورفاتحہ خوانی بھی کی اس کے ہمراہ مرکزی جنرل سیکریٹری جمعیت علمائے اسلام سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری، صوبائی جنرل سیکریٹری جمعیت بلوچستان ایم این اے آغا محمودشاہ، امیر جمعیت منگچر مفتی ابوبکر، حافظ عبدالحق،سیکریٹری جنرل مولوی عطا اللہ جگسوری، سیکریٹری اطلاعات مولانا عزیز اللہ قریشی، کی اس کے بعد منگچرمیں منعقد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ جمعیت کے لیے ایک بہت بڑی اعزاز ہے کہ ہمیں پی ڈی ا یم کی سربراہی دی گئی ہے اللہ تعالی کاشکرگزار ہے اوراللہ تعالی سے دعا ہے کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے ہمیں کامیابی عطا فرمائے 25 اکتوبرکو کوئٹہ میں منعقدہونے والے جلسہ عام نااہل اورسلیکٹڈ حکمرانوں کے خلاف ایک سنگ میل ثابت ہوگی جمعیت علمائے اسلام ہمارے اکابراوراسلاف کی امانت ہے اس کی حفاظت کرنا ہماری دینی فرض ہے رب العزت ہمارے اس سفر کوکامیاب منزل تک پہنچائے کل کوئٹہ میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقدہورہا ہے ہرکارکن اس جلسے کوکامیاب بنانے کے لیے اپنے تمام تروسائل بروئے کارلاناہوگا ہمیں اپنی کامیابی کے لیے اللہ تعالی کے حضورسربسجود اوردعامانگنا چاہیے انہوں نے کہاکہ فضل الرحمن عرف رضوان نامی شخص کو منگچر پانچ سال سے لاپتہ کیاگیا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے تمام لاپتہ افراد کو منظرعام پرلایا جائے اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے توانہیں کھلی عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ وہ اپنا دفاع اورصفائی پیش کرسکیں تقریبا گزشتہ دودہائیوں سے لوگوں کو لاپتہ کرنے کاسلسلہ جاری ہے جوایک بہت بڑی ظلم ہے یہ انصاف کے خلاف ہے کہ کسی کولاپتہ کیا جائے اوراس کے گھروالوں کو پتہ نہ ہو وہ زندہ ہے یانہیں ایسے اقدامات کی روک تھام کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں