اپوزیشن جتنا زور لگاسکتی ہے لگالے، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی،زبیدہ جلال

تربت (نمائندہ انتخاب) وفاقی وزیردفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے کہاہے کہ اپوزیشن جتنا زور لگاسکتی ہے لگالے، موجودہ حکومت اپنی 5سالہ آئینی مدت پوری کرے گی، ملک میں جاری بحران اورمعاشی مشکلات انہی جماعتوں کے پیداوار ہیں جو آج موجودہ حکومت کوموردالزام ٹھہرارہی ہیں، ساؤتھ بلوچستان پیکیج آخری مراحل میں ہے بہت جلد وزیراعظم خودیہاں آکر پیکیج کااعلان کریں گے، ان خیالات کااظہار انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے ویڈیو کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر رحیمہ جلال رند، ٹھیکیدار زبیررند، ڈاکٹرفاروق رند، لولوہ رفیق احمد ودیگر موجودتھے، انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں نے کوئٹہ میں جن نکات اور ایشوز کو اٹھایایہ سب انہی کے پیداکردہ ہیں، اپوزیشن اپنا شوق پوراکرلے، جلسے جلوس کرلے لیکن حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرلے گی، ہر دو ڈھائی سال بعد الیکشن سے جمہوری نظام پنپ نہیں سکتی، جمہوریت کانام لیکر جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں جمہوری نظام کو استحکام کی ضرورت ہے، پی ٹی آئی اوربلوچستان عوامی پارٹی کوعوام نے مینڈیٹ دیاہے اس لئے انہیں بھی حکومت کرنے کاحق حاصل ہے، اپوزیشن جلسہ جلوسوں سے عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کاجو خواب دیکھ رہی ہے یہ کبھی پورانہیں ہوگا کیونکہ عوام اب باشعور ہیں وہ سب جانتے ہیں،انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کے گزشتہ2سال معیشت کوسنبھالا دینے میں گزرگئے اب معاشی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے، مشرف کے دورمیں بیرونی قرضے6ہزار ارب ڈالرتھے جو ان دونوں پارٹیوں کی 10سالہ دور حکومت میں 6ہزار ارب ڈالر سے بڑھ کر33ہزار ارب ڈالرہوگئے تھے موجودہ حکومت جتنی قرضے لے رہی ہیں ان کا 50فیصد سابقہ قرضوں کی سود کی ادائیگی پر خرچ ہورہی ہے، ملک معاشی بحران میں تھامگر موجودہ حکومت کی گڈگورننس پالیسیوں اورکرپشن کوکنٹرول کرنے کی وجہ سے اب حالات بہترہورہے ہیں، انہوں نے کہاکہ بلوچستان ڈیولپمنٹ پیکیج کی تیاری کے حوالے سے وفاقی وزیر اسدعمر کی قیادت میں گزشتہ ماہ اعلیٰ سطحی ٹیم نے علاقہ کادورہ کیاتھا اب پیکیج کی تیاری مکمل ہوگئی ہے جلد وزیراعظم اس کی منظوری دیں گے اور باقاعدہ کیچ آکر پیکیج کااعلان کریں گے، انہوں نے کہاکہ پیکیج میں روزگارکے زیادہ سے زیادہ مواقع پیداکرنے کی طرف توجہ دی گئی ہے اوران شعبوں کوترجیح دی گئی ہے جس سے عوام کو زیادہ سے زیادہ روزگارکے مواقع میسر آسکیں جن میں زراعت سرفہرست ہے، میرانی ڈیم کمانڈ ایریا کی تمام اراضی کو زیرکاشت لانے کامنصوبہ ہے چاہے وہ اراضی پرائیویٹ ہوں یاسرکاری، یہاں پر اعلیٰ کوالٹی کی کپاس پیداہوتی ہے، یہاں پر کاٹن جیننگ فیکٹری لگائے جائیں گے، آواران، خاران، پنجگور اورخضدارمیں بھی زراعت کے حوالے سے کافی اسکوپ ہے، انہوں نے کہاکہ ماہی گیری کے شعبہ پربھی توجہ دی جارہی ہے، صحت اورتعلیم کے حوالے سے وسیع منصوبہ بندی کی جارہی ہے،تعلیم کے شعبہ میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کو خصوصی طورپر فوکس کیاجائے گا، منرل کوریڈور چاغی ودالبندین کیلئے وفاقی حکومت نے کمپنی بنایاہے، جس میں 90فیصد بلوچستان اور10فیصد وفاق کا حصہ ہوگا، انڈسٹریلائزیشن کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، اگلے سال جولائی تک بلوچستان بھرمیں براڈبینڈ اور 3Gاور4Gسروسز شروع ہوں گے، سی پیک اورگوادرپورٹ سے جنوبی بلوچستان کے تمام علاقوں کولنک کرنے کیلئے سڑکیں بنائی جائیں گی، ہوشاپ آواران شاہراہ، جھل جھاؤ بیلہ ودیگر سڑکوں کے علاوہ میرے حلقہ کی2اہم سڑکیں بھی شامل ہیں جن میں تربت مند روڈ کی مرمت،بائی پاس روڈکی تعمیراور مند گوادر روڈ کی تعمیر کے منصوبے سے مند گوادرکافاصلہ محض ایک گھنٹہ رہ جائے گا، بلوچستان ترقیاتی پیکیج میں انفراسٹرکچر کے ساتھ بجلی کے نظام کوبہتربنایاجائے گا، انہوں نے کہاکہ جنرل مشرف کے بعد بلوچستان میں کوئی میگاپروجیکٹ شروع نہیں کیاگیا، میرانی ڈیم، گوادرپورٹ، ساحلی شاہراہ کے علاوہ مکران کی بجلی بھی جنرل مشرف کے دورکی ہے، اب یہاں پر بجلی بحران کی صورت اختیارکرچکی ہے، انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کو سرحدی علاقوں کے عوام کی مشکلات وپریشانیوں کااحساس ہے، مند بارڈر کے حوالے سے سیکورٹی کے کچھ تحفظات ہیں جنہیں جلد دورکرکے مند بارڈر کو کھول دیاجائے گا کیونکہ سرحدی علاقوں کے عوام کا زیادہ ترانحصار سرحدپر ہوتاہے، مند بارڈرکی بندش سے یہاں پر اشیائے ضرورت عوام کی دسترس سے باہرہوگئے ہیں، انہوں نے کہاکہ سرحدپر چھوٹے پیمانے پر اشیائے خوردونوش کی ترسیل کو اسمگلنگ تصورکیاجارہاہے مگریہ اسمگلنگ نہیں بلکہ عوام کی بنیادی اورروزمرہ ضرورت ہے، انہوں نے کہاکہ ضلع کیچ کے114ٹیچرز کی بحالی کیلئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے وزیراعلیٰ کوویڈ19سے متاثرہونے کی وجہ سے کچھ تاخیرہوئی ہے فائل چیف سیکرٹری کے پاس ہے، انشاء اللہ یہ مسئلہ جلد حل ہوگا، انہوں نے صحافیوں کیلئے رہائشی کالونی کیلئے اراضی دلوانے کی یقین دہانی کرائی، ریڈیوپاکستان تربت کے برطرف کنٹریکٹ ملازمین کی بحالی کیلئے کوششیں کرنے کایقین دلایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں