بلوچستان سے ایسے اخبارات شائع ہوتے ہیں جن کا نام تک نہیں سنا،چیف جسٹس

کوئٹہ:چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ ان کو یہ سن کر حیرت ہوئی کہ بلوچستان سے ایسے اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں جن کا انہوں کبھی نام تک نہیں سنا ہوا ہے ایک کیس میں ان کے سامنے ایک ایسے ہی اخبار میں شائع اشہتار کا تراشہ پیش کیا گیا جس کے نام کے متعلق پہلی بار انہوں سنا اور اس میں ایک ہسپتال کی کنٹین کا ٹینڈر دیا گیا جس شخص کو اخباری اشہتار کے تحت ٹینڈر 5 لاکھ روپے میں دیا گیا اس کا مخالف فریق کورٹ کے سامنے 6 لاکھ روپے میں ٹھیکہ لینے کو تیار تھا، حکومتی اشتہارات کے عمل میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے یہ ریمارکس جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل بینچ نے بایزید خان خروٹی بنام چیف سیکرٹری بلوچستان وغیرہ کیخلاف دائر آئینی درخواست نمبر 895/20 کی سماعت کے دوران دیئے سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان شہک بلوچ استفسار کیا کہ فریقین کہاں ہے تو نیعدالت کو بتایا کہ تمام فریقین کو نوٹسز جاری ہوئے ہیں تاہم آج کوئی پیش نہیں ہوا ہے ایک موقع دیا جائے تاکہ اگلی سماعت میں جواب جمع کرایا جاسکے۔ درخواست گزار نے عدالت عالیہ کے تحریری استدعا کی چونکہ یہ ایک رفاعامہ کا کیس ہے اس میں سیکرٹری اطلاعات اور ڈی جی پی آر بھی فریق ہیں اور ان کی پیشی کو نوٹسز پہلے سے جاری کیے جا چکے ہیں قرار دے اس لئے ان سے پوچھا جائے کہ محکمہ اطلاعات بلوچستان کا پبلسٹی بجٹ جو اندازے کے مطابق 37 کروڑ روپے سالانہ ہے جس میں 30 کروڑ روپے معمول کے اشتہارات جس میں ٹینڈر نوٹسز، آسامیوں وغیرہ کی تشہیر شامل ہے جبکہ 5 کروڑ روپے ڈسپلے اشتہارات اور 2 کروڑ روپے الیکٹرانک میڈیا کے لئے مختص ہیں جو ڈی جی پی آر کی صوابدید پر ہے اور صرف حکومت کی خوشنودی کے لئے استعمال ہو رہے ہیں جس کا عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہے دوسری جانب اس کا سب سے زیادہ فائدہ صوبے کے باہر کے اخبارات اور نیوز چینل اٹھا رہے ہیں اور اشتہارات کی غیرمنصفانہ تقسیم کے ذریعے مقامی اخبارات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور صوبے کے کثیر وسائل کا بے دریغ استعمال عوامی کے خزانے کا ضیاع ہے بی پی پی آر اے رولز میں صرف دو اخبارات ایک انگریزی اور ایک اردو اخبار میں اشتہار شائع کرنے کی شرط ہے تاہم محکمہ اطلات ایک اشتہار 6 سے 8 اخبارات کو جاری کرتا ہے جس سے خزانے کو غیر ضروری بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے لہذا معزز عدالت سے درخواست ہے کہ محکمہ اطلاعات کے تحت اشتہارات کی مد میں مختص فنڈز کے غلط استعمال کو روکا جائے اور غیر جانبدارانہ کمیشن تشکیل دے کر فنڈز کا آڈٹ کرایا جائے تاکہ غریب عوام اور غریب صوبے کے وسائل کا تحفظ ممکن ہو سکے اور اشتہارات کی تقسیم میں ڈی جی پی آر کے صوابدیدی اختیارات ختم کیے جائیں۔ دروان سماعت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے درخواست گزار کی موقف کی تائید کرتے ہوئے عدالت عالیہ سے استدعا کی اس سلسلے انکو بھی تحفظات ہیں اس پر متعلقہ ذمہ داروں کو وہ بھی نوٹسز جاری کرنے کی استدعا کرتے ہیں درخواست گزار نے عدالت عالیہ سے یہ بھی استدعا کی کہ سیکرٹری اطلاعات بلوچستان کو حکم دیا جائے کہ کوئٹہ کے اکثر ایف ایم چینلز اور مختلف کیبل آپریٹرز غیر معیاری کریموں کی تشہیر کررہے ہیں جس میں ایک بڑی تعداد میں اسٹیرائیڈ شامل ہوتا ہے جو کہ انسانی جسم کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے یہ غیر معیاری کریم جو کہ مارکیٹ میں سرعام فروخت ہورہی ہے جس کی پیکنگ پر نہ ہی کسی قسم کا ایڈریس درج ہوتا ہے اور نہ ہی ان کی رجسٹریشن ہوتی ہے جس سے کم پڑھی لکھی اور سادہ لوح خواتین چونکہ پورا گھر میں ہونے کی وجہ سے یا تو ایف ایم ریڈیو سنتے ہیں یا پھر کیبل نیٹ ورک پر چلنے والے ڈرامے وفلم دیکھتے ہیں اور وہ ان کے شکنجے پر آکر اپنے چہرے کو نقصانات پہنچاتے ہیں اور یہ وائٹنگ کریم جس کے بارے میں نے خود اسکین کے ماہر ڈاکٹرز سے بات کی ہے کینسر کی وجہ بن سکتی ہے اس لئے ان اشتہارات کو چلانے سے متعلق مفاد عامہ میں ایک آرڈر دیا جائے کہ اس تشہیر نہ کی جائے تاکہ سادہ لوح خواتین کی زندگیاں محفوظ رہیں اور مارکیٹ میں دستیاب اس غیر معیاری کریموں کے نمونے کیلئے پنجاب کے لیبارٹریز سے ٹیسٹ کرانے کیلئے سیکرٹری صحت کوحکم دیا جائے تاکہ اس پر پابندی عائد کی جائے عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کو درخواست رجسٹرار آفس کے ذریعے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کردی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں