موجودہ حکومت کی کرپشن کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سینئر رہنما وسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں کوئی تقسیم نہیں ہے اور نہ ہی دو بیانیے ہیں، ایاز صادق نے فوج کے بارے میں کوئی بات ہی نہیں کی،ایک بیانیہ بنا دیا گیا ہے کہ ایازصادق نے فوج کے خلاف بڑی سخت بات کی ہے،انہوں نے فوج کا ذکر تک نہیں کیا،انہوں نے صرف سویلین حکومت کا ذکر کیا۔انہوں نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے حوالے سے کہا کہ سرتاج عزیز کی رپورٹ کے اندر یہ موجود ہے،رپورٹ کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کا اتفاق ہونا چاہیے،اس کے کشمیر پر کیا اثرات ہوں گے وہ دیکھنے پڑیں گے، آج بدقسمتی سے الیکشن کے ماحول میں وزیراعظم عمران خان نے کہہ دیا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ میں بناؤں گا، بلاول نے بھی کہا کہ ہم بنائیں گے،ساری جماعتیں یہی کہتی ہیں،کوئی جماعت اس کو اکیلے نہیں بنا سکتی،کیا آپ سینیٹ کے اندر گلگت بلتستان کے عوام کو 25سیٹیں دیں گے،ان کے قومی اسمبلی کے ممبرز کی تعداد تقریباً تین بنتی ہے وہ کیا ذمہ داری پوری کریں گے اپنے علاقے کی، صوبہ ہزار، بہاولپور،سندھ،کے پی کے اور بلوچستان میں بھی صوبوں کی ڈیمانڈ ہے، بات ذمہ داری اور حقیقت کی کرنی چاہیے الیکشن کے اندر جھوٹا نعرہ نہیں لگانا چاہیے، وزیراعظم یہ کہہ ہی نہیں سکتے کہ میں صوبہ بناؤں گا وہ بنا ہی نہیں سکتے،جب تک تینوں بڑی جماعتیں (ن) لیگ،پیپلزپارٹی اور جے یوآئی اکٹھی نہیں ہوں گی صوبہ نہیں بن سکتا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں قادر بلوچ کی بہت عزت کرتا ہوں،ان کی خواہش تھی کہ ثناء اللہ زہری پی ڈی ایم بلوچستان کے جلسے میں شریک ہوں، میں نے کہا کہ وہ اڑھائی سال سے سیاست سے باہر ہیں،پی ڈی ایم تحریک کا حصہ بھی نہیں ہیں، میں ان کو جلسے میں مدعو نہیں کرسکتا،یہ ساری ناراضگیاں ہیں اگر اس معاملے کو کوئی اور رنگ دیا جائے تو کچھ نہیں کہہ سکتا، پی ڈی ایم کا بیانیہ بڑا سیدھا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلے۔ شاہد خاقان عباسی نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ جب ہماری حکومت گئی تو1.1کا سرکلر ڈیٹ تھا،آج2.3ہوگیا ہے، شمسی توانائی کی قیمت وقت کے ساتھ کم ہوتی گئی،پاکستان میں 28سینٹ کی بھی ہم نے آفر کی،آج ساڑھے 6پر چل رہی ہے، یہ سب چیزیں کرنے والی ہیں لیکن یہ بجلی کا مستقل حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ کہتے تھے کہ ایل این جی مہنگی تھی،آج حکومت صرف دسمبر میں 100ملین ڈالر کا نقصان کرے گی،یہ حکومت کی نالائقی ہے،اس کی پہلے سے پلاننگ کرنی چاہیے تھی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت2ہزار فی من کرنے کی حمایت کرتے ہیں، پنجاب میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر پر کون لگے ہوئے ہیں اور کس نے لگائے ہیں وہاں آپ کو ساری حقیقت کا علم ہو جائے گا،حکومت فوڈ کنٹرول کی سیٹیں دس دس کروڑ میں بیچ رہی ہے یہ الزام نہیں حقیقت ہے،موجودہ حکومت کی کرپشن کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں