بلوچستان میں بندٹرینوں کو کھولنے کی ضرورت ہے، قائمہ کمیٹی
کوئٹہ؛چیئرمین اسٹیڈنگ کمیٹی برائے ریلوے معین احمد وٹو نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بندٹرینوں کو کھولنے کی ضرورت ہے، آئندہ چند دنوں میں ریلوں کے حوالے سے بلوچستان میں تبدیلی نظر آئے گی، ریلوے کی زمینوں کو قبضہ کیا جارہا ہے، تمام محکموں کو اپنے زمینوں کے بغیر دوسرے محکموں کے زمینوں کو قبضہ نہیں کرنا چاہیے، 2007میں بلوچستان میں مختلف ریلوے ٹریک بند کردیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ ریلوے کو اربوں روپے کا خسارہ ہوا ہے۔بلوچستان میں مال گاڑیوں کو دوبارہ کھلولاجائے گا، اسٹیڈنگ کمیٹی کا دورہ کوئٹہ فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس سے خطاب اور میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیااسٹینڈنگ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس زیر صدارت چیئرمین کمیٹی معین احمد وٹو منعقد ہوا جس میں دیگر کمیٹی کے دیگر ممبران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران بلوچستان میں ریلوے کے مسائل کے حل اور کارکردگی بہتر بنانے کے حوالے سے چیئرمین اور کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیاکہ تمام صوبائی حکومتیں محکمہ ریلوے کا اربوں روپے کا مقروض ہیں اس کے علاوہ صوبائی حکومت کی جانب سے ریلوے کے آراضی پر بغیر این او سی کے تعمیرات کئے گئے ہیں، 2007میں بلوچستان میں مختلف ریلوے ٹریک بند کردیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ ریلوے کو اربوں روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ کمیٹی کوبتایا گیا کہ سی پیک روٹ پر ریلوے کا کوئی ٹریک موجود نہیں۔ ریلوے ٹریک کے ختم ہونے سے تمام فائدہ ٹرانسپوٹر حاصل کررہے ہیں۔چمن میں مال گاڑی کے لیے تین کلو میٹر ٹریک کی ضرورت ہے، کمیٹی ممبران کو یہ بھی بتایا گیا کہ ریلوے ٹریک کی تعمیر سے ریلوے کو سالانہ اربوں روپے کا فائدہ حاصل ہوگا اگر بلوچستان میں ریلوے کیلئے بزنس پالان ترتیب نہیں دیا تو اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔ بعد ازاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئر مین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ریلوے معین احمد وٹو نے کہاکہ کوئٹہ آکر پتہ چلا کہ بلوچستان میں ریلوے کی کارکردگی کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، بلوچستان میں ریلوے کے مسائل کے حل کیلئے اسٹیڈنگ کمیٹی کا کوئٹہ آنا ضروری تھا اسٹیڈنگ کمیٹی کا دورہ کوئٹہ فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کی زمینوں کو قبضہ کیا جارہا ہے تمام محکموں کو اپنے زمینوں کے بغیر دوسرے محکموں کے زمینوں کو قبضہ نہیں کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بلوچستان میں ٹرینوں کی بندش کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ بند ٹرینون کی بندش سے عوام سے محکمہ کو بھی نقصان پہنچا ہے بلوچستان میں بندٹرینوں کو کھولنے کی ضرورت ہے صوبے میں جلد ہی بند ٹرینوں کو بحال اور مال گاڑیوں کو نہ صرف دوبارہ کھلولاجائے گا بلکہ آئندہ چند دنوں میں ریلوں کے حوالے سے بلوچستان میں تبدیلی نظر آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ تب کوئٹہ کا دورہ کیا جائے گا جب بلوچستان میں ریلوے میں بہتری آئی گی، کوئٹہ کے شہری جلد دیکھیں گے کہ بلوچستان میں ریلوے میں مثبت تبدیلی آگی۔بلوچستان میں ریلوے کے مسائل کے حوالے سے 12 تاریخ کو ایک اور اجلاس ہوگا جس میں اہم فیصلے کیے جائیں گئے۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے بند ٹرینوں کو دوبارہ آہستہ آہستہ بحال کیا جارہا ہے۔


