ڈونلڈ ٹرمپ ہار گئے

اپنی کامیابی کے بلند بانگ دعوے کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غیر سرکاری، غیر حتمی نتائج کے مطابق ہار گئے، دھاندلی کا شور مچانا بھی ان کے کام نہیں آیا۔ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ ان کی شکست کا سبب بنے۔جو بائیڈن وائٹ ہاؤس کے مکین ہوں گے۔وہ 284ووٹ حاصل کر چکے ہیں جبکہ جیت کے لئے 270ووٹ درکار تھے۔جیسے ہی میڈیا نے یہ اطلاع دی،ٹرمپ کے حامی سڑکوں سے غائب ہو گئے۔ سرکاری اعلان 14دسمبر کو ہوگا۔اس وقت تک اگر ڈونلڈ ٹرمپ چاہیں توعدالتی کارروائی کر سکتے ہیں۔دھاندلی کی شکایت ماضی میں بھی کی جاتی رہی تھی لیکن جس اہتمام سے یہ کام ٹرمپ نے کیا، پاکستان کے عوام (اور تجزیہ کاروں)کے لئے یہ سب نیا تھا۔ حتیٰ کہ امریکی امورپردسترس رکھنے والے بھی محتاط انداز میں اپنی رائے دینے لگے تھے۔بالخصوص و ہ دانشور زیادہ محتاط دکھائی دیئے جوگزشتہ الیکشن میں ہیلری کلنٹن کی جیت کے لئے پر امید تھے۔اس میں شک نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہر لحاظ سے غیر روایتی سیاست دان ثابت ہوئے۔انہوں نے براک اوبامہ کا ایران کے ساتھ معاہدہ یکطرفہ طور پرختم کر دیا۔اور عالمی ضامنوں کی ناراضگی کو خاطرمیں نہیں لائے۔ اس کا نقصان انہی کو پہنچا، ان کی لگائی جانے والی پابندیوں کو ایران سمیت یورپی ممالک نے تسلیم نہیں کیا۔البتہ اقوام متحدہ کی لگائی ہوئی پابندیا ں ایران کے لئے مسئلہ بنی رہیں۔ٹرمپ بھاری مقدار میں امریکی اسلحہ بیچنے میں کامیاب رہے۔کورونا وائرس کے سامنے ان کی حکومت بے بس دکھائی دی۔انہوں نے ابتداء میں ہی اپنے عوام کو بتا دیا تھا کہ اموات اگر دو لاکھ سے کم رہیں تو یہ ہماری خوش قسمتی ہوگی۔لیکن کورونا وائرس کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد دو لاکھ سے زائد رہی بلکہ ابھی تک اموات کا سلسلہ جاری ہے۔امریکی معاشی مشکلات کا ذمہ دار حلف برداری کے وقت سے انتخابی شکست کی خبر آنے تک چین کو سمجھتے رہے۔کورونا وائرس بھی ان کے خیال میں چین ہی سازش تھی۔اس حوالے سے انہوں نے اقوام متحدہ کو بھی چین کے ساتھ نتھی کیا اور فنڈز روکنے کا اعلان کرنے سے بھی نہیں جھجکے۔ڈونلڈٹرمپ کا شمار دنیا کے ان چند بوڑھوں میں کیا جا سکتا ہے جو ڈھلتی عمر کا رونا نہیں روتے، نوجوانوں کی طرح کھیلتے کودتے نظر آتے ہیں۔ان کی شدید خواہش تھی کہ دوسری مرتبہ کامیاب ہوں اور اپنی بیٹی میلانیا کو اپنا جانشین بنائیں۔مگر جو بائیڈن کی کامیابی آڑے آگئی۔جو بائیڈن پاکستان کے لئے اجنبی نہیں۔دو بار پاکستان کے دورے پر آ چکے ہیں۔خطے کی سیاست سے باخبر ہیں۔چونکہ امریکی پالیسی حکومتی تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کوئی حیران کن اقدامات کر سکیں گے۔امریکہ نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر ایٹم بم گرانے سے لے کر آج تک اسلحے کی فروخت کو ہی معیشت کی بنیاد بنایا ہوا ہے۔ اور اس مقصد کے لئے اسے ہروقت دنیا میں جنگی ماحول درکار ہے۔گزشتہ چار دہائیوں میں مشرق وسطیٰ میں جو تباہی و بربادی ہوئی اس کے پیچھے اسلحے کی فروخت کا یہی جنگی جنون کارفرما رہا ہے تاکہ امریکی معیشت کو گرنے سے بچایا جائے۔یہ انسانیت دشمن پالیسی ہے اور اس کی حمایت کوئی ذی ہوش شخص نہیں کر سکتا۔ڈونلڈ ٹرمپ جیسا لا ابالی صدر بھی امریکی فوجیوں کی لاشیں اور زندگی بھر کے لئے معذور ہونے زخمیوں کو دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکا تھا اور افغانستان سے فوجیوں کی واپسی کے لئے ان افغان لیڈروں سے بھی مذاکرات کئے جنہیں ختم کرنے کے لئے بیس برس پہلے امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی۔جو بائیڈن امریکی سیاست اور معیشت کے تمام رموز سے واقف ہیں۔عالمی سیاسی اور معاشی منظر نامہ ان کے سامنے ہے۔ انہیں علم ہے کہ امریکہ میں نسلی منافرت ٹرمپ دور میں بڑھی ہے۔کوروناائرس نے بھی سیاہ فام آبادی کی شکایتوں میں اضافہ کیا ہے۔گورے سیاہ فاموں سے کس حد تک نفرت کرتے ہیں اس کا اندازہ گورے پولیس افسر کے رویہ سے لگایا جا سکتا ہے جس سے جارج فرائیڈ درخواست کرتا رہا کہ اس کی گردن پر دباؤ کم کیا جائے تاکہ وہ سانس لے سکے لیکن اس کی فریاد نہیں سنی گئی اور اس کی موت واقع ہوگئی۔اس ظلم کے خلاف سیاہ فاموں نے شدید احتجاج کیا۔مذکورہ پولیس افسر کی بیوی نے بھی اس سے طلاق لے لی تھی۔دیکھنا ہوگا کہ نئے امریکی صدر جوبائیڈن کے دور میں امریکہ اپنے اسٹرٹیجک پارٹنر بھارت کے لئے چین کے خلاف کیا کرتا ہے؟ امریکی ایسٹبلشمنٹ اور عدلیہ بھی ان کے ساتھ کھڑی ہے،پوسٹل بیلٹ سے بھی یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ عوام ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں انہیں بہتر سیاست دان سمجھتے ہیں۔ایک عالمی طاقت کے صدر کی حیثیت سے جوبائیڈن سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جنگی جنون کے خاتمے میں اپنا تجربہ اوراپنی سیاسی بصیرت بروئے کار لائیں گے۔دنیا کو آگ اور خون سے بچانے کی ضرورت ہے۔امریکہ کوشش کرے تو اسلحہ سازی کی دوڑ ختم ہو سکتی ہے۔ اگر کورونا وائرس کے خاتمہ کے لئے دنیا سمیت امریکہ ہر ممکن کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے تو انسانی جانوں کے اس ضیاع کو بھی روکنے کی ضرورت ہے جو اسلحے کی اندھی دوڑ میں 1914سے مسلسل امریکی دیگر ملکوں کے بارود کا نشانہ بن رہے ہیں۔بعض حلقوں کا خیال ہے جو بائیڈن فلسطین کے حوالے سے مختلف سوچ کے حامل ہیں،اسی طرح مسئلہ کشمیر کے بارے میں حقیقت پسندانہ رائے رکھتے ہیں۔آج دنیا کو امن کی ضرورت ہے، امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔نئے امریکی صدر کے اصل عزائم کا علم اس وقت ہوگا جب وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔اس لئے کہ ایسٹبلشمنٹ کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے۔ بحیثیت صدر ان کے سامنے وہ معاملات بھی آئیں گے جن سے نائب صدر بے خبر ہوتا ہے، مثلاً سی آئی اے کے سربراہ سے ان کی ملاقات ہوگی جس سے وہ پہلے متعارف نہیں۔پاکستانی سیاست پر امریکہ کو خصوصی حیثیت حاصل رہی ہے۔جو بائیڈن نئے عالمی تناظر میں کس طرح نبھاتے ہیں، اس کا اندازہ ان کی حلف برداری کے بعد ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں