چھاتی کے سرطان اور کرونا سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم ناگزیر ہے،روبینہ عرفان

قلات: بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماو رکن قومی اسمبلی بی بی روبینہ عرفان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی اور مختلف بیماریوں کے حوالے سے آگاہی نہ ہو نے کی وجہ کرونا اور بریسٹ کینسرسے ہرسال ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں صحت کی سہولیات اور شعور نہ ہو نے کی وجہ سے خواتین میں چھاتی کے سرطان کی بیماری پھیل رہی ہیں خواتین کو چھاتی کے سرطان اور کرونا سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم ناگزیر ہوچکا ہے قلات میں کرونا اور بریسٹ کینسر کے حوالے سے سیمنار کا انعقاد خوش آئند اقدام ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گرلز کالج قلات میں ڈپٹی کمشنر عزت نذیر اورمحکمہ تعلیم کے تعاون سے بریسٹ کینسراور کرونا سے بچاؤ آگاہی مہم سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس سے قبل ڈاکٹر سہیلہ ذرین احمد زئی نے سیمینار میں شریک فیمیل ٹیچرز اور طالبات کو آہی دیتے ہو ئے کہا کہ خواتین کو جب اپنی چھاتی پر گلٹی یاکوئی دانہ دکھائی دی تو فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ بریسٹ کینسر ایک جان لیوا مرض ہے ابتداء میں ہی اس کا علاج آسان اور ممکن ہے ہر سال اس بیماری سے ملک میں اسی ہزار خواتین موت کا شکار ہو تیں ہیں سیمینار سے سابق صوبائی وزیر آغا عرفان کریم ڈاکٹر علی اکبر نیچاری، ڈاکٹر نند لعل، پروفیسر عبدالحی دہوار آغا جہانگیر احمد زئی ودیگر بھی خطاب کیا اس موقع پر رکن قومی اسمبلی روبینہ عرفان نے کہا کہ ڈاکٹر سہیلہ ذرین نے بریسٹ کینسر اور کرونا کے حوالے جو آگاہی فراہم کی وہ قابل تعریف ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی اور خواتین سے متعلق بیماریوں کے حوالے سے آگاہی نہ ہو نے کے باعث ہرسال خواتین کی بہت بڑی تعداد موت کے منہ میں چلی جاتیں ہیں ہم سب کو چایئے کہ چھاتی کے سرطان کے حوالے ملنے والی معلومات کو دوسروں تک بھی پہنچائے اور ڈاکٹر سہیلہ ذرین کی باتوں پر خود بھی عمل کرتے ہو ئے کرونا اور بریسٹ کینسر سے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو محفوظ رکھیں،انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ہر دسویں عورت چھاتی کے سرطان کا شکار ہو تی ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ہر تیسری عورت اس مرض میں مبتلا ہو تی ہے انہوں نے کہا کہ کرونا بھی ایک ایسا خطرناک بیماری ہے کہ جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے قلات میں بائیس سو کے قریب افراد کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا جن میں سے ساڑھے تین سو کے ٹیسٹ مثبت آگئے باقی منفی ہو گئے جن میں سے اب صرف چھ قرنطینہ میں ہے الحمد اللہ باقی سب صحت مند ہو گئے انہوں نے کہا کہ کرونا سے بچاؤ کے لیے ماسک کا استعمال لازمی ہے اور ساتھ ہی ساتھ صفائی کا خاص خیال اور بلا وجہ گھروں سے نہ نکلا جائے انہوں نے کہا کہ کرونا جس شخص پرحملہ کرتا ہے تو وہ اس کے اس حصے کو شدید متاثر کرتاہے جسم کا متاثرہ حصہ کھبی ٹھیک نہیں ہو تا اسلیے ہمیں چایئے کہ ہم ہر حال میں اپنی اور اپنے بچوں اور خاندانوں کی حفاظت کرتے ہو ئے احتیاتی تدابیر اپنائے۔ بعد ازاں گرلز کالج کی طالبات نے چھاتی کے سرطان،کرونا اور ان سے بچاؤ سے متعلق سوالات بھی کیئے

اپنا تبصرہ بھیجیں