پرامن افغانستان، پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے،شاہ محمود قریشی
اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پرامن افغانستان، پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے،پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنی مخلصانہ کاوشیں جاری رکھے گا،ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، گلبدین حکمت یار اور افغان اسمبلی کے اسپیکر سمیت اعلیٰ سطحی افغان وفود کی پاکستان آمد اور ان سے ہونیوالے تبادلہ خیال سے دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت ملے گی۔ بدھ کو مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کا پندرہواں اجلاس وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی صدارت میں ہوا جس میں پارلیمانی سیکرٹری خارجہ عندلیب عباس، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود،سابق سفراء، سابق خارجہ سیکرٹریز، ماہرینِ بین الاقوامی امور اور دیگر اراکین مشاورتی کونسل نے شرکت کی۔اجلاس میں خطے میں امن و امان کی صورتحال، اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان سمیت خارجہ پالیسی سے متعلقہ اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے گذشتہ کچھ عرصے کے دوران، وزارتِ خارجہ کی جانب سے بروئے کار لاء گئی سفارتی کاوشوں اور اہم اقدامات سے شرکاء اجلاس کو آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی پشت پناہی اور ریاست مخالفت گروہوں کی معاونت کے ٹھوس شواہد سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا جسے دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ پرامن افغانستان، پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں مستقل قیام امن کیلئے بین الافغان مذاکرات کا نتیجہ خیز ہونا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنی مخلصانہ کاوشیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، گلبدین حکمت یار اور افغان اسمبلی کے اسپیکر سمیت اعلیٰ سطحی افغان وفود کی پاکستان آمد اور ان سے ہونیوالے تبادلہ خیال سے دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت ملے گی۔ وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان اور ان کے ساتھ کثیر جہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے ہونے والی گفتگو سے بھی شرکاء اجلاس کو آگاہ کیا۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر شفیق جعفرووچ کا دورہ پاکستان اور ان سے ہونیوالی ملاقاتوں سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں بھارت سرکار کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد دنیا کے سامنے رکھے۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میں نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونیوالے حالیہ ٹیلیفونک رابطوں میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کا معاملہ اٹھایا اور دنیا کی توجہ اس تشویشناک صورتحال کی طرف دلاتے ہوئے، اس کے سدباب کیلئے موثر اور مشترکہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ دو ماہ کی قلیل مدت کے دوران، وزارتِ خارجہ نے پبلک ڈپلومیسی کے حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے وزارت خارجہ میں یوم سیاہ کشمیر کے حوالے سے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کے مابین کشمیری بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے عنوان سے آرٹ اور تقریری مقابلے کا انعقاد کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے عالمی یوم. برداشت کے حوالے سے وزارتِ خارجہ میں ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا جس میں مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید حضرات نے شرکت کی۔ مشاورتی کونسل کے اراکین نے سفارتی سطح پر وزارت خارجہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے وزیر خارجہ کو مبارکباد پیش کی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ کے کثیر الجہتی امور میں معاونت اور قیمتی مشوروں پر مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کے اراکین کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔


