بلدیاتی انتخابا ت میں تاخیر
پاکستان میں کسی بھی سویلین حکومت نے خوشدلی سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے۔یہ روایت تا حال برقرار ہے۔موجودہ حکومت کوبھی سپریم کورٹ نے یاد دلایاہے کہ14ماہ گزر چکے ہیں تاحال آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی گئی،بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے۔جواباً وزیر اعظم نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسابلدیاتی نظام لا رہے ہیں جس میں میئر کاانتخاب براہ راست ووٹرز کریں گے،اسے ٹیکس لگانے(اور وصول کرنے)کا اختیار ہوگا۔وہ اپنا نظام اسی طرح چلائے گا جیسے صوبے اور ملک چل رہے ہیں۔ برطانیہ سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں یہ نظام نافذ ہے۔ایران اور ترکی کے میئر اپنی اعلیٰ کارکردگی کے نتیجے میں ملک کے صدر اوروزیر اعظم بنے۔ وجوہات کچھ بھی ہوں،پاکستان میں بلدیاتی انتخابات صرف فوجی حکمران کراتے رہے ہیں۔ سویلین حکومتیں ممکنہ حد تک ٹال مٹول کرتی رہی ہیں۔ بڑی وجہ یہی سمجھ آتی ہے کہ وزیر اعلیٰ اور اس کی وجہ سے وزیراعظم بھی بلدیاتی نظام سے آنکھیں چراتے رہے۔وزیر اعظم عمران خان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں خیبر پختونخوا میں دوبارہ حکومت دلانے میں بلدیاتی کارکردگی مددگار ثابت ہوئی تھی۔ اس کے باوجودسپریم کورٹ نے 14ماہ تاخیر کی نشاندہی کی ہے۔دراصل ایک بار ساکھ خراب ہو جائے تو جائز تاخیر میں بھی شکوک سر اٹھا لیتے ہیں۔تاہم عدلیہ کی جانب سے نوٹس لئے جانے کے بعد بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی بہتری آ جائے گی۔بگاڑ دیرینہ ہے اس لئے اس کو سدھارنے میں بھی وقت درکار ہوگا۔ہر چیز خواہشات کے تابع نہیں ہوتی، کثیرالجہتی مسائل حل ہونے میں بعض نادیدہ عوامل بھی کارفرما ہوا کرتے ہیں۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے پارلیمنٹ میں سلسلہ جنبانی شروع ہو گئی ہے۔ابھی اپوزیشن عادتاً یہ ثابت کرنے میں مصروف ہے کہ سب کچھ اس کی مرضی کیمطابق نہ ہواتو وہ سارے عمل کو روک دے گی مگر عملاً ایسا ممکن نہیں۔سینیٹ کے انتخابات میں بہت کم وقت رہ گیا ہے۔سب سے شرمناک دھاندلی سینیٹ میں ہوتی ہے۔چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کاجو انجام ہوا اسے پارلیمنٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دھبہ سمجھا جانا چاہیئے۔ کھڑے ہوکر بلند آواز میں فیصلہ سنانے کے چند سیکنڈ بعد اپنے ہاتھوں سے اس کو رد کردینا اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرنے کی بدترین مثال تھی۔اس شرمندگی سے بچنے اور آئندہ اس کا راستہ روکنے کا موقعہ پارلیمنٹ کو مل رہا ہے۔ انتخابی قوانین میں مناسب تبدیلی کی جائے تو یہ دوغلا پن ختم ہو جائے گا۔اپوزیشن کی اس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ موجودہ حکومت آئی نہیں، لائی گئی ہے اس لئے اس سے بات نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ حکومت سلیکٹڈہے تو جس پارلیمنٹ نے اسے منتخب کیا ہے وہ ساری پارلیمنٹ سلیکٹڈ کہلانی چاہیئے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ آدھی پارلیمنٹ سلیکٹڈ ہو اور آدھی کو الیکٹڈ مانا جائے۔پوری لاٹ کو ایک نام دیاجائے گا۔پارلیمنٹ میں جو خود کو پارسا اور دھودوں دھلا سمجھتے ہیں وہ سلیکٹڈ پارلیمنٹ سے علیحدگی اختیارکر لیں تو حکومت اسی لمحے اپنا اخلاقی جوازکھو بیٹھے گی۔مگر مولانا فضل الرحمٰن کے مطالبے کے باوجود نون لیگ اورپی پی پی مستعفی ہونے کو تیار نہیں۔خود جمیعت علمائے اسلام بھی دوسروں سے استعفیٰ مانگ رہی ہے مگر خود اس نیک کام میں پہل نہیں کر رہی۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑ کر عوام کویہ پیغام دیا ہے کہ ان کے پاس کوئی مشترکہ ایجنڈا نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کسی وجہ سے اچانک ختم ہوجائے تب بھی وہ اس خلاء کو پر کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔پہلے آپس میں جنگ لڑی جائے گی۔ ایک دوسرے کو پچھاڑ کر جو کامیابی حاصل کرے گا وہ وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھے گا۔ایک لڑائی ہے جو پی ٹی آئی کے ہٹائے جانے کے بعدلڑی جانا پی ڈی ایم کا مقدر ہے۔
سیاست دانوں کو ایک سے زائد بار اپنے جملوں پرغور کرنا چاہیئے۔دیکھنا چاہیئے کیا کہہ رہے ہیں۔اس رویہ کے نتیجے میں جمہوریت کو تقویت ملے گی یا آمریت مضبوط ہوگی؟کیا یہ سچ نہیں کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں تیسری قوت کے اشارے پرایک دوسرے کے خلاف ایک سے زائد بارلانگ مارچ کرتی رہی ہیں۔ تمام مناظر اس کے حافظہ میں محفوظ ہیں۔عام آدمی کی نگاہوں سے کوئی چیزپوشیدہ نہیں۔ سیاست دانوں کو اس خوش فہمی سے نکلنا ہوگا کہ ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ عام آدمی کے لئے تقدس کا حامل ہے۔جس تواترسے جھوٹ بولا جاتا رہا ہے الفاظ اپنی تقدیس و توقیر کھو بیٹھے ہیں۔انتخابی اصلاحات کے عمل سے علیحدگی غیر سیاسی رویہ ہے،اس سے بچا جائے۔سیاسی عمل کو شکوک و شبہات سے بالاتر بنایا جائے،یہ کام پارلیمنٹ کے فلور پر کیا جائے عام آدمی خود دیکھ لے گاکہ حکومت اور اپوزیشن میں سے کون دھاندلی سے پاک انتخابات کا خواہشمند ہے اور کون چاہتا ہے کہ دھاندلی کے مواقع موجود رہیں تاکہ ضرورت پڑے تو استفادہ کرلیا جائے۔اگر انتخابی اصلاحات کے بغیر ہی انتخابات کرا دیئے جائیں تو ”چمک“، ”انجنیئرنگ“، اور ”آر۔او“ زدہ نہ ہونے کی ضمانت کون دے گا؟کس سے مانگی جائے گی؟جس ایسٹبلشمنٹ کو آج دن رات کوساجا رہا ہے کیا اسی سے درخواست کی جائے گی کہ ہم سیاست دان اپنے مسائل حل کرنے کی سکت نہیں رکھتے، آپ خداراہمیں اس مشکل سے نکال دیجئے، اَللہ آپ کا اقبال بلند کرے۔ 73برسوں میں جو ہوچکا وہی کافی ہے، مزید خرابی لانے کی راہ ہموا نہ کی جائے۔اپوزیشن کو دھاندلی کے تمام راستوں کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ووٹ کو عزت اسی وقت ملے گی جب دھاندلی رک جائے گی۔نتیجہ ڈالے گئے ووٹوں کے مطابق آنے کی پہلی شرط یہی ہے کہ رات کی گنتی میں جیتنے والا امیدوار ہی دن کی روشنی میں بھی کامیاب تسلیم کیا جائے۔اپوزیشن اپنی ذمہ داری اداکرے۔کل عام آدمی کوجواب دیناہوگا۔


