مسنگ پرسنز ولاشوں پرسیاست ہورہی،سرداروں کاٹرائیکا پسماندگی کا ذمہ دار ہے، میرشفیق مینگل
کوئٹہ:جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ میر شفیق الرحمن مینگل نے کہا کہ 2018کے انتخابات میں اسٹبلشمنٹ نے سیاسی مخالفین کا بھر پور ساتھ دیا اس کے باوجود بھی نئے انتخابات کامطالبہ نہیں کرتے، پی ڈی ایم کا اسٹیج ہائی جیک کرکے دہشتگردوں کا بیانیہ سامنے لانے کی کوشش کی گئی، سربراہ مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے اکابرین سے گزارش ہے کہ وہ مودی،را اور ملک دشمنوں کے ایجنڈے پر کارفرما افراد کو اپنا اسٹیج استعمال نہ کرنے دیں، عمران خان کی حکومت کو سلیکٹڈ کہنے والوں نے 15ارب روپے کے منصوبے منظور کروائے جن میں انہوں نے نے ڈیڑھ ارب روپے کمیشن لیا جبکہ دیگر اسکیمات فج کردیں، ہماری تجویز کردہ اسکیمات پر آن گراؤنڈ کام ہورہا ہے، بلوچستان پاکستان کا مضبوط ترین قلعہ ہے صوبے کی عوام، شہداء کے ورثاء نے اپنے خون اور سیاسی جدوجہد سے را کے مقاصد کو ناکام بنایا،یہ بات انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا لازم جز ہے جو تاقیامت رہے گا بلوچستان میں ہندوستان نے خون کی ہولی کھیلی ہے ”را“ کے شیطانی پنجے ہمارے جسم کو نوچ رہے ہیں ایسی صورتحال میں پی ڈی ایم سے امید تھی کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کی مخدوش صورتحال کو مدنظر رکھتے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی قیادت قابل احترام ہے لیکن انہیں یہ سوچنا چاہئے تھا کہ بلوچستان میں ”را‘‘ کے منصوبے چلانے والے مودی کے یار جو ہندوستان کی ایماء پریہاں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں کیا انہیں جلسے میں اپنا اسٹیج ہائی جیک کرنے کی اجازت دینی چاہئے تھی یانہیں کوئٹہ اور پشاور میں پی ڈی ایم کا اسٹیج ہائی جیک کرکے دہشت گردوں کا بیانیہ سامنے لانے کی کوشش کی گئی جس سے شہداء وطن یہاں کے سیاسی و جمہوری اور محب وطن لوگوں کی نہ صرف دل آزاری ہوئی بلکہ اس کی مذمت بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے بلوچستان کو لہو لہان کیا انکے شر سے صوبے کا کوئی بھی طبقہ محفوظ نہیں رہا ہمیں پی ڈی ایم کی قیادت سے گلہ ہے کہ انہوں نے ”را“ اور مودی کی زبان استعمال کرنے والوں کو آگے لاکر شہدا کے خون کا مذاق اڑایایہ ایک غیر سنجیدہ اور غیر سیاسی عمل تھا بلوچستان میں قیام امن کیلئے سویلین اورفورسزکے شہدا کی قربانیاں روزروشن کی طرح عیاں ہیں پی ڈی ایم کی قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک دشمن عناصر کا بیانیہ سامنے لانے سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ نوابوں اورسرداروں کا ٹرائیکاروز اول سے بلوچستان میں ظلم،بربریت اور پسماندگی کا ذمہ دارہے 2006ء میں جس سردار نے لشکر بلوچستان مارچ کااعلان کیااور ریاست حرکت میں آئی تو یہ لشکر ”لشکر بلوچستان“ ڈیٹھ سکواڈ میں تبدیل ہوگیاجس نے یہاں ٹارگٹ کلنگ،بم دھماکے،قتل و غارت کی اسکا سربراہ سیاسی اورقبائلی چہرہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ ”را“ کی آواز بن کر پارلیمنٹ کو دھوکہ دینا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مگرمچھ کے آنسو بہانے والے سابق وزیر شفیق احمد خان پروفیسر ناظمہ طالب،ڈاکٹر فہیم،عاشق عثمان سمیت ہزاروں شہداکے قتل کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وڈھ،ڈیرہ بگٹی،سوئی،کوہلو،کاہان میں سرداری ٹرائیکا نے جو مظالم کئے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں مینگل قبیلے کی عورتوں کی عزت تک ان سے محفوظ نہیں لانگو قبیلے کے پانچ سو افراد پر تشدد کرکے انہیں علاقہ بدرکرکے انکی جائیدادوں پر قبضہ کیا گیا جب یہی شخص وزیراعلیٰ بنا تو اس نے اپنے لشکر کے لوگوں کو سرکاری تحفظ دینے کیلئے خصوصی فورس بنادی جب ثناء اللہ زہری وزیراعلیٰ بن رہے تھے تو اسی شخص نے نواز شریف سے اسکے خلاف درج مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا یہی شخص اگرچہ چاہتا تو کہہ سکتاتھا کہ نواب ثناء اللہ زہری اور میر امان اللہ کے درمیان رنجش کا خاتمہ کیا جائے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ بھوتانی،جا م اور خان قلات کا خاندان بھی اس شخص کے شر سے محفوظ نہیں رہاانہوں نے نواب اکبر بگٹی اور بلوچستان کے ہزاروں نوجوانوں کو ورغلا کر پہاڑوں پر بھیجا1997ء میں بھی نواب بگٹی کے ساتھ بے وفائی کی نواب اکبر بگٹی الفاظ تھے کہ یہ بلی پنجہ بھی نہیں مارسکتی خضدارکے سیرت چوک پر کھڑے ہوکر پنجابیوں کو قتل کرنے کے احکامات دینے والوں نے خودپنجابیوں سے رشتہ داری کرلی مسنگ پرسنز اور لاشوں پرسیاست کی جارہی ہے ہزاروں نوجوانوں کو قتل کروانے کے بعداب بلی حج کو چلی ہے ہم مظلوم ضرور ہیں لیکن شہدا کے وارث ہوتے ہوئے کبھی سرنہیں جھکائیں گے اور مودی کے یاروں کے عزائم کو خاک میں ملائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار چل رہی ہے اور مودی شیطانی کھیل کھیل رہا ہے بلوچستان کے کچھ لوگ اسکا سیاسی چہرہ بنے ہوئے ہیں یہی وہ گروہ ہے جو 1958ء میں جنرل موسیٰ کے پاؤں میں بیٹھا وزارت اعلیٰ لی یہ بلوچستان کے سیاہ و سفید کے پہلے مالک بنے جس کے بعد صوبہ ایک ہزار سال پیچھے چلا گیا۔انہوں نے ہی بلوچستان سے اساتذہ کو زبردستی نکالا بلوچستان کی عوام اورشہدا کے ورثاء نے ان لوگؤں کوپہچان کر مسترد کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس حکومت کو آج یہ لوگ سلیکٹڈ کہہ رہے ہیں اسی سے 15ارب کے منصوبوں میں ڈیڑھ ارب روپے کمیشن کھایا گیا اور دیگر اسکیمات کو فج کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وڈھ میں انہی لوگوں کی وجہ سے 88پرائمری اسکولوں میں سے ایک بھی عالمی معیار کے مطابق نہیں ہے میر عبدالقادر کی زمینیں قبضہ کرکے یونیورسٹی کیمپس کیلئے دی گئیں اورنام اپنا استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کے کچھ رہنماوں نے کوئٹہ کے جلسے میں ان دہشت گردوں کی تصویریں اٹھارکھی تھیں جنہوں نے چینی قونصلیٹ پر حملہ کیاایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کا تقاضاتھا کہ حکومتیں پانچ سال چلنی چاہئیں پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کو چاہئے کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت ہے تو اسے بھی پانچ سال چلنے دیا جائے ملک بار بار انتخابات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ 2018ء کے انتخابات میں جن لوگوں کا اسٹیبلشمنٹ سے معاہدہ ہوا ہم نے انکے خلاف 15ہزار ووٹ لئے اورانکا بھر پور مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کو اعتراض ہے کہ صوبائی حکومت ہماری تجویز پر منصوبے کیوں دیتی ہے کیاتعلیم،صحت،پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات عوام کاحق نہیں ہے مخالفین کا اعتراض عجیب ہے جنہوں نے یورپ میں محل بنائے وہ شریف اور زرداری خاندانوں سے کم امیر نہیں ہیں وہ مڈل کلاس بننے کا دعویٰ نہ کریں ہمارے تجویز کردہ تمام منصوبے آن گراؤند موجود ہیں اور چیلنج کرتا ہوں کہ ہمارے کسی بھی منصوبے میں فج اسکیم تلاش کرکے بتائیں۔


