آبادی میں اضافے پر قابوپانے کے حوالے سے شعور و آگاہی ناگزیر ہے، سردار عبدالر حمن کھیتران

کوئٹہ : صوبائی وزیر بہبود آبادی و خوراک سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے کہا ہے کہ عوام میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے سلسلے میں شعور آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس بابت آگاہی فراہم کرنے کے لئے تمام اضلاع میں سیمینارز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ پاپولیشن ویلفیئر کے آفسران سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر منظور احمد زہری،ڈائریکٹر جنرل اورنگزیب خان،ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالستار شاہوانی بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر بہبود آبادی نے کہا کہ آج پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جس میں سرفہرست بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔جبکہ بلوچستان میں تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ دوسروں صوبوں کی نسبت یہاں پر ماؤں اور بچوں کی اموات سب سے زیادہ ہے۔جس کی خاص وجہ ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی کی کمی ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ضروری ہے۔کیونکہ ایک صحت مند ماں ہی ایک صحت مند معاشرے کو تشکیل دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی کو متوازن سطح پر لانے کے لیے پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اپنی کوششیں کر رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کی آبادی کم ہے۔مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بلوچستان میں ماؤں اور بچوں کی اموات کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے۔تاہم اس سلسلے میں محکمہ بہبود آبادی محکمہ صحت، این، جی، اوز سیکٹر سے قریبی رابطے میں ہیں۔تاکہ آبادی کو متوازن کرتے ہوئے مسائل کے حل کی طرف توجہ دی جائے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت محکمہ بہبود آبادی پروگرام کے تحت تولیدی صحت کے خدمات،فلاحی مراکز،تولیدی صحت مراکز اور گشتی سروس یونٹس کے ذریعے کلائنٹس کو سہولیات مہیا کر رہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پی،پی،ایچ،آئی کے ساتھ”لیٹر آف انڈر سٹینڈنگ”پر دستخط بھی ہو چکا ہے۔جس میں محکمہ بہبود آبادی مانع حمل ادویات پی،پی،ایچ،آئی کو فراہم کرے گا۔اور بلوچستان کے تمام بیسک ہیلتھ یونٹس کے ذریعے تولیدی صحت سے متعلق خدمات اور سہولیات فراہم کرے گی۔سردار کھیتران نے کہا کہ اس بابت شعور کی عدم موجودگی کی وجہ ہے کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر انسانی آبادی پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل قریب میں افراط زر میں اضافہ،عدم توازن،خوراک کی کمی،غربت،بھوک،افلاس،تعلیمی پسماندگی،بے روزگاری،معاشرتی عدم استحکام،جرائم اور مہنگائی جیسے سنگین مسائل پیدا ہوں گے۔تاہم اس بابت ہماری خواہش ہے کہ پورے بلوچستان کے دور دراز کے علاقوں میں مانع حمل ادویات مہیا کی جائیں۔تاکہ انسانی آبادی کے بوجھ پر قابو پایا جا سکے۔بعد آزاں سیکریٹری پاپولیشن ویلفیئر منظور احمد زہری نے محکمہ کی کارکردگی اور اس سے متعلق امور پر صوبائی وزیر کو بریفنگ دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں