اپوزیشن کے جلسوں کے بعد کورونا کیسزاضافہ ہوگیا ہے،بشریٰ رند

کوئٹہ : پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بلوچستان بشریٰ رند نے کہاہے کہ اپوزیشن کے جلسوں کے بعد کورونا کیسز میں 18فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے، جلسوں سے پہلے کیسز 2فیصد جبکہ 20فیصد تک پہنچ گئے ہیں، ماضی میں برسراقتدار رہنے والی عوام کی مسترد شدہ جماعتیں حکومت پر الزامات لگا رہی ہیں، عوام اور اداروں کے بیچ میں نفرت کا فائدہ دشمن قوتوں کو پہنچے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی (مرحوم) کے لئے فاتحہ خوانی کرائی گئی۔ بشریٰ رند نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے موثر انداز میں اقدامات اٹھا رہی ہے،پی ایس ڈی پی میں زیارت ریسٹ ہاؤس کی لاگت 50 ملین،شابان میں سیاحتی منصوبے پر 100 ملین سمیت مختلف منصوبوں جس میں،کیپنگ ہاؤس ملا چٹوک،لنڈ ملیر پر ساحلی پٹی کی ڈویلپمنٹ اور ہنہ اوڑک کو جدید خطوط پراستوار کرنے جیسے منصوبے شامل ہیں،انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے پیر غائب کاافتتاح کیاگیا جس کی ڈویلپمنٹ پر 60 ملین کا خرچ آیا،انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے الزامات کہ موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آئی ہے کو مستردکرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت عوام کی مینڈیٹ سے منتخب ہوکر آئی ہے،اپوزیشن جماعتیں جلسے جلوسوں میں حکومت پر الزامات عائد کررہے ہیں حالانکہ عوام نے اپوزیشن جماعتوں کو مسترد کردیا،ماضی میں اقتدار میں رہنے والی جماعتوں نے عوام کو کچھ نہیں دیا جس پر عوام نے 2018ء میں موجودہ حکومت کومنتخب کیا،انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے کورونا کو مذاق بنایا ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ اپوزیشن احتجاج اور جلسے جلوس نہ کرے سیاست سب کا حق ہے لیکن اگر اپوزیشن اپنا احتجاج دو ماہ تک ملتوی کرے تو قیامت نہیں آئے گی موجودہ حالات گھمبیر اور نازک ہے بلوچستان کے ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے جگہ نہیں ہے کورونا وائرس کا دوسرا فیز پہلے سے زیادہ خطرناک ہے،انہوں نے کہاکہ ملک میں اپوزیشن جلسوں سے پہلے کورونا 2فیصد جبکہ اب 20فیصد تک کیسز جاپہنچے ہیں،کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے پہلے2.7 فیصد جبکہ اب 7.9 تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دنیا کو کورونا وائرس جیسی وباء کاسامنا ہے درآمدات اور برآمدات میں کمی کی وجہ سے مہنگائی بڑھ گئی ہے مہنگائی ہر دور میں ہوتی ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ ہم عوام کو سہولیات دیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال پر کام نہ کرنے کی تنقید کی جا رہی ہے،جام کمال کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے دیکھنے والی آنکھیں چاہیے۔ موجودہ حکومت صوبے کے ماضی میں پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے،صوبے میں محکمہ تعلیم اور صحت میں اصلاحات کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان محکمہ صحت کو جدید خطوط پراستوار کریگا بلوچستان میں پرائمری سکولز موجود تاہم مڈل سکولز کی کمی ہے اس حوالے سے صوبائی حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے،انہوں نے کہاکہ ماضی میں سب سے بڑا مسئلہ لاء اینڈ آرڈر کا تھا جس کو موجودہ حکومت نے ترجیح دیتے ہوئے صوبے میں امن وامان قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی لیکن بلوچستان کا امن پی ڈی ایم کو ہضم نہیں ہو رہی۔ اداروں اور عوام کے درمیان نفرت پیدا کرنے سے فائدہ دشمن ملک اٹھا رہے ہیں حالانکہ صوبے اور ملک میں امن و امان افواج پاکستان کی مرہون منت ہیں۔آج پی ڈی ایم عوام کو کورونا میں مرنے کیلئے چھوڑ کر پاور دکھانے کیلئے تگ ودو کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جمعہ کا دن عبادت کیلئے ہوتاہے جبکہ جمعہ کو مدارس بند ہوتی ہے تو بچوں کو جلسے جلوسوں میں لایا گیا،بڑی جماعتیں موروثی سیاست کررہی ہیں۔ پی ڈی ایم کے قائدین عوام کو بے وقوف نہ بنائیں،ہم تنقید برائے اصلاح کے حق میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں