مستقبل میں میڈیا مکمل ڈیجیٹل ہو جائےگا، ورکشاپ

کوئٹہ ( سٹاف رپورٹر) )ڈیجیٹل میڈیا کے باعث پرنٹ میڈیا کی افادیت وہ نہیں رہی ، آج سوشل میڈیا اور خاص کر موبائل میں اخبار کے قارئین پرنٹ اخبارات کے قارئین سے زیادہ ہیں ، جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیا آنے والے سالوں میں مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوجائے گا جس کے لئے مقامی صحافیوں کو تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سینئر خاتون صحافی معصومہ، پروجیکٹ منیجر لاکل ایکشن فار ڈیموکریٹک اینڈ انکلوسیو رسپانس ٹو کویڈ19ثناء اللہ ودیگر نے سینٹر فار پیس ڈویلپمنٹ ( سی پی ڈی ) بلوچستان کے زیر اہتمام ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاوونٹی بیلٹی کی تعاون سے ”ٹریننگ آف جرنلسٹس آن یوزینگ ٹیکنالوجی فار پینڈامک رپورٹرنگ” کے عنوان سے صحافیوں کے لئے تربیتی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینئر خاتون صحافی معصوم نے ویڈیو لنک کے ذریعے تربیتی ورکشاپ کے شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موبائل نے میڈیا کو مکمل طور پر تبدیل کردیا ہے سب کچھ اب موبائل میں موجود ہیں ۔ پہلے کیمرہ اور کمپیوٹر کے بغیر کام میڈیا کا کام ممکن نہیں تھا مگر ایک ہی موبائل میں وہ تمام وسائل موجود ہیں کہ جس سے ایک اچھے خبر اور رپورٹ کے لئے ضروری ہے آج ڈاکومنٹری بنانے کے لئے بھی اتنے تگ و دور کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ انہوں نے کہا کہ موبائل میں ایک ہی کلک پر دنیا کے کسی بھی کونے کی معلومات تک رسائی ممکن ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے اخبارات اور ٹی وی چینلزکی افادیت کو متاثر کردیا ہے اور عین ممکن ہے کہ آنے والے چند سالوں میںمیڈیا مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوجائے ۔ اب اخبارات پرنٹ سے زیادہ سافٹ میں پڑھاجارہا ہے یہی وجہ ہے کہ اخبارات کی اصل سرکولیشن سے وٹس اپ گروپس میں زیادہ شیئر ہوتاہے ۔ انہوںنے کہا کہ اب ہر ایک شخص اپنا بہترین ویب سائٹ ، یو ٹیوب پر نیوز یا انٹرٹینمنٹ چینل لانچ کرسکتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف وہ اپنے ارد گرد کی تبدیلیوں ، واقعات ، حادثات سے متعلق دنیا تک معلومات پہنچاسکتا ہے بلکہ اپنی ماہرانہ صلاحیتوںکا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکومنٹری ، ڈرامہ ، فلمز و دیگر شعبوں میں تخلیقی کام کرتے ہوئے اسے اپنے لئے کمائی کا ذریعہ بنا سکتا ہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کی مواد کو کاپی کرنے سے نہ صرف گریزکرے بلکہ اپنا کام ایک رجسٹر اور بہتر ویب سائٹ یا چینل پر پبلش یا نشر کرے ۔اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کو فرائض کی انجام دہی کے دوران ہونے والے خطرات ، غلطیوں اورقوائد و ضوابط سے متعلق تربیت فراہم کی ۔ انہوں نے سوشل میڈیا ایپ سے متعلق صحافیوں کو تفصیلی بریفنگ دی اور ان چینلز پر کام کرنے سے متعلق آگاہی دی گئی ۔ اس موقع پر تربیتی ورکشاپ کے شرکاء کو سرٹیفکیٹس بھی دیئے گئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں